.

اسرائیل اور روس کے درمیان ہاٹ لائن کا قیام

اقدام کا مقصد شامی فضائی حدود میں طیاروں کے ممکنہ تصادم سے بچنا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روسی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ شام میں فضائی کارروائیوں کے دوران اسرائیل اور روس کے جنگی طیاروں کے باہمی تصادم سے بچنے کے لیے دونوں ملکوں نے "براہ راست رابطہ لائن" قائم کی ہے۔

روسی خبر رساں ایجنسی"انٹر فیکس" نے وزارت دفاع کے ترجمان ایگور کوناشنکوف کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ روس اور اسرائیل کے درمیان شام میں فضائی کارروائیوں کے بارے میں پیشگی اطلاع کے لیے براہ راست رابطہ لائن قائم کی گئی ہے۔

یہ براہ راست لائن شام میں روس کے حمیمیم فوجی اڈے اور اسرائیل کی فضائی سینٹرل کمانکے ہیڈ کواٹرز کے درمیان قائم ہے جس میں نہ صرف دونوں ملک ایک دوسرےسے تعاون کے امور تبادلہ خیال کرتے ہیں بلکہ شام میں ہونے والی کارروائیوں کے بارے میں بھی ایک دوسرے سے رابطے میں ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں روسی وزارت دفاع کے ترجمان نے کہا کہ شام میں روسی اور اسرائیلی جنگی طیاروں کی اڑان کے کامیاب تجربات کیے گئے ہیں جن میں دونوں ملکوں کے لڑاکا طیارے بہ حفاظت اپنےٹھکانوں پر پہنچ گئے ہیں۔

گذشتہ ماہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو نے ایک بیان میں کہا تھا کہ تل ابیب اور ماسکو کے درمیان شام میں روسی کے ملٹری ایکشن سے متعلق 'کوآرڈی نیشن' پر اتفاق ہو گیا ہے۔ اس اتفاق کا مقصد شام کے محاذ پر دونوں ملکوں کے طیاروں کو غلط فہمی کے نتیجے میں تصادم سے بچانا ہے۔

خیال رہے کہ روس نے 30 ستمبر سےشام میں بڑے پیمانے پر فضائی حملے شروع کر دیے تھے، تاہم روسی فوج کے جنگی طیارے کئی ماہ قبل شام میں پہنچائے گئے جہاں شمالی اور مغربی شام کی فضاء میں روسی طیاروں کو دیکھا بھی گیا۔

روس نے شام میں فضائی حملوں سے متعلق اطلاعات رسانی کے لیے اسرائیل کے ساتھ ہارٹ لائن قائم کی ہے بلکہ امریکا اور روس کے درمیان بھی شام میں ہونے والی کارروائیوں کے بارے میں باہمی اطلاعات رسانی کا نظام قائم کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق پیش آئند ایام میں امریکا اور روس کے درمیان باہمی رابطے سے متعلق ایک ایک معاہدہ بھی طے پائے گا۔ ایک امریکی عہدیدار کا کہنا ہے کہ شام میں روسی مداخلت کے بعد امریکا اور روس کے درمیان یہ اپنی نوعیت کا پہلا معاہدہ ہو گا۔