.

کام لیکر تنخواہ نہ دینے والی سعودی کمپنیوں کی تالا بندی

سعودی وزارت محنت کی سالانہ رپورٹ میں نئے اعداد وشمار جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

#سعودی_عرب کی وزارت محنت کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وزارت نے حکومت کی ہدایات کے مطابق ملازموں کی تنخواہوں کا تحفظ نہ کرنے والی 1441 کمپنیوں کو بند کر دیا ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ان تمام کمپنیوں میں سے 48 فی صد نے وزارت کے تنخواہوں کی ادائیگی کے وضع کردہ نظام سے متعلق شرائط کو پورا نہیں کیا ہوا تھا۔ وزارت نے 89 کمپنیوں کی جانب سے ملازمین کی شکایات کو دور نہ کرنے کی پاداش میں کمپیوٹر سروسز بھی بند کردی تھیں۔

رپورٹ کے مطابق سعودی وزارت لیبر نے تصفیے کے لئے مقامی عدالتوں میں دائر کئے گئے 675 کیسوں کو حل کروایا ہے جبکہ ابھی 121٫000 کیس عدالتوں میں التوا کا شکار ہیں۔ یہ تعداد پچھلے سال کے کیسوں کی تعداد کا 91 فی صد ہے۔

رپورٹ کے مطابق نجی شعبے میں پانچ لاکھ 30 ہزار کیسز دائر کئے گئے ہیں جن میں خواتین کی طرف سے 6329 کیسز دائر کئے گئے ہیں۔ جبکہ ملک کے اندر ملازمت کو چھوڑ کر بھاگنے والوں کے کیسز کی تعداد دو لاکھ 28 ہزار ہے اور بیرون ملک یہی تعداد دو لاکھ 96 ہزار ہے۔

سعودی وزارت کی یہ رپورٹ 2014 اور 2015 کی ایک مالی رپورٹ پر مشتمل تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ نجی شعبے میں 3 لاکھ 47 ہزار سعودی ملازمین کا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس میں سے 3 لاکھ 22 ہزار کو حال ہی میں نئی ملازمت ملی تھی۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا تھا کہ نئی ملازمتوں میں مردوں کو ملنے والی ملازمتیں عورتوں کی نسبت زیادہ تھی جس کا تناسب 59 فی صد کے مقابلے میں 41 فی صد تھا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ 12 لاکھ کمپنیاں وزارت کی طرف سے متعین کردہ شرائط پر پورا اتر گئی ہیں اور انہیں ان کی مناسب کیٹیگریوں میں ڈال دیا گیا ہے۔ مگر رپورٹ میں بتایا گیا کہ 6 لاکھ 12 ہزار کمپنیاں نئی ملازمتوں میں مقررہ حد تک سعودی شہریوں کو ملازمت نہیں دے سکی تھی جس کی وجہ سے انہیں لال اور پیلی کیٹیگری میں ڈال دیا گیا ہے۔

رپورٹ میں ایک حوصلہ افزا بات یہ بتائی گئی ہے کہ سعودی خواتین کی ورک فورس میں تعداد میں 11236 خواتین کا اضافہ ہو گیا ہے جو کہ پچھلے سال کی تعداد سے تین فی صد زیادہ ہے۔