.

تین ماہ تنخواہ نہ ملے تو بغیر اجازت کفیل بدلہ جا سکے گا

ملازمین کے حقوق کی پاسداری کے منصوبے کے 9ویں مرحلے کا آغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں تین ماہ تک تنخواہ ادا نہ کرنے والے کمپنی کے ملازمین اب اپنے کفیل کی اجازت کے بغیر کسی دوسری کمپنی میں ملازمت حاصل کرنے کے مجاز ہوں گے۔

وزارت لیبر نے یہ اختیار مملکت میں رجسٹر سرکاری ونجی کمپنیوں میں کام کرنے والے ملازمین کی تنخواہوں کو تحفظ دینے کی خاطر شروع جانے والے ایک حالیہ منصوبے میں دیا ہے۔ یہ اقدام حکومت کی جانب سے 100 یا اس سے زائد ملازمین رکھنے والی 3595 نجی کمپنیوں کے 405٫590 ورکرز کی بروقت تنخواہوں کی ادائیگی کو یقینی بنانے کے لئے اٹھایا گیا ہے۔

سعودی وزارت میں معائنہ اور حالات کار کی بہتری کے انڈر سیکریٹری عبداللہ ابو ثنین نے بتایا ہے کہ وزارت لیبر تمام نجی اداروں میں ایک ایسا پروگرام متعارف کروا رہی ہے جس کے تحت ان کمپنیوں کے ملازمین کو ہر تنخواہ وقت پر ملا کرے گی۔

اس سکیم کے نتیجے میں ملازمین اور کمپنیوں کے درمیان موجود کئی مسائل حل ہو جائیں گے۔ اگر کوئی کمپنی اس قانون کی خلاف ورزی کرتی ہوئی پائی گئی تو اسے 3000 سعودی ریال جرمانہ ہو گا اور جتنے ملازمین اس معاملے میں متاثر ہوں گے ان سب کی کل تعداد سے اس 3000 سے ضرب دے دی جائے گی۔

ثںین کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کے اطلاق کے دو مہینے بعد تک جس کمپنی نے اپنے ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کی معلومات فراہم نہ کیں تو اس کی تمام املاک کی تالا بندی کر دی جائے گی۔

نیز اگر کوئی کمپنی تین ماہ سے زائد عرصے تک اپنے ملازمین کی تنخواہیں ادا نہیں کر سکے گی تو اس کی تمام سروسز معطل کر دی جائیں گی اور اس کے ملازمین کو یہ اجازت ہو گی کہ وہ اپنے کفیل کی اجازت کے بغیر کسی دوسری کمپنی میں ملازمت اختیار کر لیں۔

ثنین نے تمام کمپنیوں پر زور دیا کہ وہ اپنے ملازمین کو تنخواہوں کی ادائی کا شیڈول وزارت کی ویب سائٹ پر فراہم کریں تاکہ وزارت لیبر کے پروگرام کے نئے مرحلے پر کام شروع ہو سکے۔