برطانیہ ہوائی اڈوں پر اضافی سکیورٹی کا طالب

مسافروں کے روانہ ہونے میں تاخیر ہوجائے ،مگر سکیورٹی بہتر ہونی چاہیے: فلپ ہیمنڈ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

برطانوی وزیرخارجہ فلپ ہیمنڈ نے کہا ہے کہ مصر کے جزیرہ نما علاقے سیناء میں روسی طیارے کے حادثے کے بعد ان کی حکومت بیرون ملک خطرے والے علاقوں میں واقع ہوائی اڈوں پر سخت سکیورٹی کے لیے کہے گی خواہ اس سے مسافروں کے روانہ ہونے میں تاخیر ہی کیوں نہ ہوجائے۔

فلپ ہیمنڈ نے اتوار کے روز بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ '' ہم اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ ہوائی اڈوں پر سکیورٹی سے مقامی صورت حال کی عکاسی ہونی چاہیے۔جہاں مقامی سطح پر کسی خطرے کا اندیشہ ہے وہاں زیادہ سکیورٹی درکار ہے اور اس کا ایک مطلب اضافی لاگت اور ہوائی اڈوں پر پروازوں کے روانہ ہونے میں تاخیر ہے''۔

برطانیہ نے روسی طیارے کے حادثے کے بعد مصر کے ساحلی مقام شرم الشیخ کے لیے اپنی تمام پروازیں منسوخ کردی ہیں اور وزیرخارجہ نے کہا ہے کہ جہاں داعش کے جنگجو بروئے کار ہیں ،وہاں سکیورٹی کو بہتر بنانے پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔

انھوں نے کہا کہ ''اگر یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ داعش کے کسی جنگجو یا اس سے متاثرہ کسی شخص نے طیارے میں دھماکا خیز مواد نصب کیا تھا تو پھر جن علاقوں میں داعش فعال ہے، وہاں واقع ہوائی اڈوں پر ہمیں سکیورٹی کی سطح بہتر بنانے پر غور کرنا ہوگا''۔

برطانیہ کے سکیورٹی ماہرین کے ابتدائی جائزے کے بعد شرم الشیخ کے لیے برطانوی طیاروں کی پروازوں معطل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔تاہم برطانوی حکومت ابھی حتمی طور پر اپنی انٹیلی جنس اطلاعات کی روشنی میں اس نتیجے پر نہیں پہنچی ہے کہ روسی طیارے کی تباہی میں واقعی داعش کا ہاتھ کارفرما تھا۔

فلپ ہیمنڈ نے مزید بتایا ہے کہ شرم الشیخ میں موجود قریبا تین ہزار تین سو برطانوی شہروں کو خصوصی پروازوں کے ذریعے وطن واپس لے جایا گیا ہے جبکہ مزید سترہ سو آج اتوار کو وہاں سے برطانیہ واپس روانہ ہونے والے تھے۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ بیشتر لوگ شرم الشیخ ہی میں اپنی تمام چھٹیاں گزارنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور ان کی وہاں سے واپسی میں دو سے تین روز کی تاخیر ہوسکتی ہے۔

امریکی اور برطانوی حکام انٹیلی جنس رپورٹس کے حوالے سے یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ 31 اکتوبر کو روسی طیارہ سیناء کے ساحلی شہر شرم الشیخ سے سینٹ پیٹرز برگ کے لیے پرواز کے دوران بم دھماکے کے نتیجے میں تباہ ہوا تھا۔طیارے میں سوار تمام دو سو چوبیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ان میں زیادہ تر روسی سیاح تھے۔تاہم حادثے کی تحقیقات کرنے والی ٹیم ابھی کسی نتیجے تک نہیں پہنچ سکی ہے۔

حادثے کے بعد برطانیہ کےعلاوہ دوسرے یورپی ممالک اور روس نے بھی شرم الشیخ کے لیے اپنی پروازیں معطل کردی ہیں اور وہاں پھنسے ہوئے ہزاروں روسیوں کو خصوصی پروازوں کے ذریعے واپس وطن لے جایا جارہا ہے۔روس کی سرکاری خبررساں ایجنسی ریا کی رپورٹ کے مطابق ہفتے اور اتوار کو گیارہ ہزار روسی شہریوں کو مصر سے واپس لایا گیا ہے۔حادثے سے قبل شرم الشیخ اور دوسرے علاقوں میں قریبا اسّی ہزار روسی شہری موجود تھے جو وہاں سیر وسیاحت کے لیے گئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں