.

ترکی کا امریکا کے ساتھ داعش مخالف مشترکہ آپریشن پر غور

شام کے ساتھ واقع سرحدی علاقے سے داعش کے جنگجوؤں کا صفایا کیا جائے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ان کے ملک نے امریکا سے مل کر اپنی سرحد اور اس کے ساتھ واقع شام کے تمام علاقوں سے سخت گیر دولت اسلامیہ (داعش) کے جنگجوؤں کی موجودگی ختم کرانے کے لیے ایک مشترکہ کارروائی کا منصوبہ بنا لیا ہے۔

وزیرخارجہ فریدون سنیر علی اوغلو نے سرکاری خبررساں ایجنسی اناطولیہ کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ داعش کے جنگجو شام کے شمالی علاقے کے ساتھ واقع ترکی کے بعض سرحدی علاقوں میں موجود ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ''ہم اپنے سرحدی علاقوں سے داعش کا کنٹرول ختم کرانے کے لیے مختلف منصوبے بنا رہے ہیں''۔لیکن انھوں نے ان کے تحت کارروائی کی نوعیت کے بارے میں کچھ نہیں بتایا ہے۔البتہ انھوں نے کہا کہ امریکا کے ساتھ مل کر اس منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ ''جب یہ منصوبے مکمل ہوجائیں گے تو ہماری کارروائیاں زیادہ شدت سے جاری رہیں گی اور آپ انھیں آیندہ دنوں میں دیکھیں گے''۔

امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے بھی سی این این ترک کے ساتھ انٹرویو میں اس مجوزہ مشترکہ منصوبے کے بارے میں بتایا ہے اور کہا ہے کہ ''ابھی تک اٹھانوے کلومیٹر کا سرحدی علاقہ داعش سے کلئیر نہیں کرایا جاسکا ہے۔ہم اس علاقے کی بازیابی کے لیے ترکی کے ساتھ مل کر آپریشن کریں گے''۔

داعش کے مشتبہ افراد کی گرفتاری

درایں اثناء ترک پولیس نے داعش کے آٹھ مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ترکی کے سرکاری میڈیا نے بدھ کو اطلاع دی ہے کہ یہ افراد مہاجرین کے روپ میں یورپی ممالک کی جانب جانے کی کوشش کررہے تھے۔

اناطولیہ کی رپورٹ کے مطابق انسداد دہشت گردی پولیس نے ان مشتبہ افراد کو استنبول کے اتاترک ہوائی اڈے سے گرفتار کیا ہے۔یہ افراد مراکش کے شہر کیسا بلانکا سے منگل کو ایک پرواز کے ذریعے آئے تھے۔

پولیس کو ان افراد کے قبضے سے ایک تحریر بھی ملی ہے جس پر ان کے استنبول سے جرمنی براہ راست یونان ، سربیا اور ہنگری پہنچنے کی تفصیل درج تھی۔اس کے علاوہ اس پر بحر متوسطہ میں انسانی اسمگلروں کی کشتیوں اور ٹرینوں اور بسوں کی تفصیل بھی رقم تھی۔

ان مشتبہ افراد نے تفتیش کے دوران پولیس کو بتایا ہے کہ وہ محض سیاح ہیں،استنبول میں چند روز گزارنا چاہتے ہیں اور ایک ہوٹل میں ان کے لیے کمرے بھی بُک ہیں لیکن ان کے ناموں پر کسی ہوٹل کے کوئی کمرے بُک نہیں تھے۔

ترکی نے پیرس میں گذشتہ جمعہ کو دہشت گردی کے حملوں کے بعد اپنی سرحدوں پر سکیورٹی مزید سخت کردی ہے جبکہ مغربی ممالک بھی اس سے اپنی ساحلی حدود میں سکیورٹی کو سخت بنانے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں کیونکہ ترکی سے ہی بحر متوسطہ کے ذریعے غیرملکی تارکین وطن غیر قانونی طریقے سے یونان جاتے اور وہاں سے پھر وہ دوسرے یورپی ممالک کا رُخ کرتے ہیں۔

ترکی کی جانب سے گذشتہ ہفتے جاری کردہ اعداد وشمار کے مطابق 2015ء کی پہلی ششماہی کے دوران سات سو سے زیادہ غیرملکی مشتبہ جہادیوں کو گرفتار کرکے ترکی سے ڈی پورٹ کیا گیا ہے۔2014ء میں پورے سال کے دوران پانچ سو بیس مشتبہ جہادیوں کو گرفتار کیا گیا تھا اور انھیں ترکی سے بے دخل کیا گیا تھا۔