.

یمن: ہادی فورسز کا جنگ بندی سے قبل جزیرے پر قبضہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کی حکومت نواز فورسز نے سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد کی فضائی مدد سے بحر احمر میں واقع ایک جزیرے زقر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے اور وہاں سے حوثی شیعہ باغیوں کو مار بھگایا ہے۔

صدر عبد ربہ منصورہادی کی وفادار فورسز نے منگل کے روز سوئٹزرلینڈ میں اقوام متحدہ کی ثالثی میں متحارب فریقوں کے درمیان امن مذاکرات سے قبل اس جزیرے پر قبضہ کیا ہے۔ان مذاکرات سے قبل یمن میں سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد اور ایران کے حمایت یافتہ حوثی شیعہ باغیوں نے بھی سات روز کے لیے جنگ بندی کے آغاز کا اعلان کیا ہے۔

یمنی حکام کے مطابق ملک کے مختلف علاقوں میں صدر ہادی کی وفادار فورسز اور حوثی باغیوں کے درمیان لڑائی میں شدت آگئی تھی اور فریقین اپنے اپنے زیر قبضہ علاقوں پر گرفت مضبوط بنانے کے لیے کوشاں تھے۔

قبل ازیں فریقین نے سوموار کی نصف شب سے فائربندی کا اعلان کیا تھا لیکن سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد نے جنگ بندی پر منگل کی دوپہر سے عمل درآمد کی اطلاع دی ہے۔تاہم فوری طور پر یہ معلوم نہیں ہوسکا ہے کہ آیا برسرزمین یمنی فوج اور حوثی باغی اس پر عمل درآمد کررہے ہیں یا نہیں۔

فریقین کے درمیان یہ جنگ بندی آج 15 دسمبر سے سات روز کے لیے ہوگی۔یمنی صدر کے بہ قول حوثیوں کی جانب سے اس کی پاسداری کی صورت میں اس کی خود کار طریقے سے ہی تجدید ہوجائے گی۔یادرہے کہ یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت اور حوثی ملیشیا کے درمیان ماضی میں لڑائی ختم کرانے کے لیے امن کوششیں ناکام رہی تھیں۔

صدر منصور ہادی نے گذشتہ ہفتے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بین کی مون اور سلامتی کونسل کو الگ الگ خط بھیجا تھا جس میں انھوں نے لکھا تھا کہ'' آپ اقوام متحدہ کے ایلچی (برائے یمن اسماعیل ولد شیخ احمد)کو آگاہ کردیں کہ وہ حوثیوں سے جنگ بندی کے احترام کو یقینی بنائیں اور وہ مستقل جنگ بندی کے لیے عملی اقدامات کریں تاکہ اتحادی فورسز سیز فائر کی کسی خلاف ورزی کی صورت میں کوئی کارروائی نہ کریں''۔

انھوں نے مزید لکھا تھا کہ ''جنگ بندی ہماری خواہش پر ہورہی ہے تاکہ ملک میں جاری خونریزی کے خاتمے کے لیے اقوام متحدہ کی ثالثی میں مشاورتی عمل کو کامیاب کیا جاسکے اور جنگ زدہ علاقوں میں انسانی امداد بہم پہنچائی جا سکے''۔