.

شام میں روسی فضائیہ کے داعش کے 1093 اہداف پر حملے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس کی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے لڑاکا طیاروں نے شام میں 18 دسمبر سے 23 دسمبر کے درمیان میں 302 اجتماعی فضائی حملے کیے ہیں اور ان میں داعش کے 1093 اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

وزارت دفاع کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ تباہ شدہ اہداف میں ایک تربیتی کیمپ بھی شامل ہے جہاں داعش کے جنگجو ترکی اور سابق سوویت دولت مشترکہ میں شامل آزاد ریاستوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو بھرتی کے بعد تربیت دیتے تھے۔

روس کی وزارت دفاع کے اس بیان سے قبل انسانی حقوق کی دو عالمی تنظیموں ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ (ایچ آر ڈبلیو)کی جانب سے الگ الگ رپورٹس سامنے آئی ہیں اور ان میں روس پر شام جنگی قوانین اور عالمی انسانی قوانین کی خلاف ورزیوں کا مرتکب ہونے کا الزام عاید کیا گیا ہے۔

ہیومن رائٹس واچ نے روسی فضائیہ کے علاوہ شامی صدر بشارالاسد کی وفادار فوج پر بھی شام میں ستمبر سے باغی گروپوں کے خلاف کلسٹر بم استعمال کرنے کا الزام عاید کیا ہے اور شامی کارکنان کا کہناہے کہ روس کے لڑاکا طیارے داعش کے اہداف کو نشانہ بنانے کے بجائے اعتدال پسند باغی جنگجو گروپوں کے اہداف پر حملے کررہے ہیں۔

ایچ آر ڈبلیو نے 30 ستمبر کو روس کے شام میں فضائی حملوں کے آغاز کے بعد بیس مقامات پر کلسٹرہتھیار استعمال کرنے کے دستاویزی شواہد اکٹھے کیے ہیں۔تنظیم کا کہنا ہے کہ اس کے پاس نو مقامات پر کلسٹر بموں کے حملوں کی تفصیل موجود ہے جس کے مطابق ان میں پینتیس شہری ہلاک ہوئے تھے۔ان میں پانچ خواتین اور سترہ بچے شامل ہیں اور دسیوں افراد زخمی ہوگئے تھے۔