امریکا کا "أبو العباس" پر 50 لاکھ ڈالر انعام کا اعلان

بلمختار، الجزائری شدت پسند جس نے افریقہ میں بربادی مچا دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

براعظم افریقہ میں "ساحلی" حکومتیں الجزائری شدت پسند مختار بلمختار کے بھرپور انداز سے دوبارہ سرگرم ہونے پر قوی اندیشوں کا شکار ہیں۔ (ساحل ایک نیم صحرائی جغرافیائی پٹی کا نام ہے جو براعظم افریقہ میں واقع ہے۔ صحرائے اعظم سے جنوب کی طرف واقع یہ پٹی سوڈان سے سینیگال تک پھیلی ہوئی ہے)۔

دو ماہ سے بھی کم عرصے میں بلمختار نے دو خطرناک کارروائیاں کی ہیں۔ آخری تخریب کاری میں جمعہ کے روز مغربی افریقا کے ملک برکینا فاسو میں ایک ہوٹل اور ریستوران کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں 30 افراد ہلاک ہوئے۔ اس سے قبل گزشتہ نومبر میں مالی کے دارالحکومت بماکو کے ایک ہوٹل میں غیرملکی شہریوں کو یرغمال بنالیا گیا تھا، اس کارروائی میں 20 افراد نے اپنی جان گنوا دی تھی۔

چوالیس (44) سالہ مختار بلمختار کا تعلق الجزائر کے جنوبی صوبے غردایہ سے ہے۔ سترہ (17) سال کی عمر میں وہ افغانستان میں لڑائی میں شریک ہوا، اور پھر 1993 میں الجزائر واپس آ گیا۔ پہلے اس نے "الجماعہ الاسلامیہ المسلحہ" نامی تنظیم میں شمولیت اختیار کی اور بعد ازاں 1998 میں "جماعہ سلفیہ للدعوہ والقتال" کے قیام پر تنظیم کا ایک نمایاں رہ نما بن گیا۔ اس کے بعد القاعدہ سے منسلک تنظیم "القاعدہ فی بلاد المغرب الاسلامی" سے وابستہ ہو گیا۔

اسے صحرائے اعظم میں مسلح کارروائیوں کو ترتیب دینے اور مالی اور نائیجر میں ہتھیاروں کی تلاش کا مشن سونپا گیا، اس مشن کا مقصد الجزائر کے شمال میں شدت پسندوں کے مراکز تک اسلحہ پہنچانا تھا۔

"خالد أبو العباس" کی عرفیت سے مشہور بلمختار نے صحرائے اعظم میں طویل عرصے تک سرگرمیاں جاری رکھیں، جس کے نتیجے میں اسلحے کے اسمگلروں اور ممنوعہ اشیاء کے تاجروں کے ساتھ اس کے مضبوط تعلقات قائم ہو گئے۔ ایک زمانے میں مشہور برانڈ کی سگریٹوں کی سوداگری میں سرگرم ہونے کے سبب اس کو "مسٹر مارلبرو" کا بھی نام دیا گیا۔ بلمختار نے مالی کے شمال میں بسنے والے مشہور قبیلے "البرابيش" میں شادی کی۔ اس طرح اس نے خود کو الجزائر کے سیکورٹی اداروں کے ہاتھوں میں جانے سے محفوظ کر لیا جو 22 برسوں سے اس کے تعاقب میں ہیں۔

بلمختار کی خطرناک ترین کارروائیوں میں سے (جن کی اس نے ذمہ داری قبول کرنے کا اعلان کیا)، 2007 میں موریتانیا میں ایک فوجی بیرک پر حملہ تھا۔ اس کے نتیجے میں 17 فوجی مارے گئے تھے۔ یہ حملہ دیگر کارروائیوں کے سلسلے کا آغاز تھا، جن میں سب سے خطرناک نائیجر میں اقوام متحدہ کے نمائندے کینیڈیئن سفارت کار روبرٹ فاؤلر اور ان کے ساتھی لوئس گوئے کا اغوا تھا۔ بلمختار نے کینیڈا کی حکومت سے 1 کروڑ ڈالر تاوان کی وصولی کے بعد دونوں یرغمالیوں کو رہا کیا۔ اس کے علاوہ بلمختار کئی مواقع پر اسپین اور فرانس کی حکومتوں سے بھی اپنی شرائط منوانے میں کامیاب رہا، جب ان دونوں ملکوں کے شہریوں کو مالی، نائیجر اور موریتانیا میں اغوا کی کارروائیوں کا نشانہ بنایا گیا۔ "ابو العباس" تاوان کی وصولی کے ذریعے خطیر رقوم جمع کرنے میں کامیاب رہا۔ بالآخر امریکا نے اسے ہلاک کرنے یا زندہ پکڑنے پر 50 لاکھ ڈالر کی انعامی رقم کا اعلان کر دیا۔ 2013ء کے اوائل میں بلمختار نے ایک کارروائی کے ذریعے عالمی ذرائع ابلاغ میں خصوصی توجہ حاصل کر لی جب اس نے الجزائر کے جنوب میں گیس کی ایک تنصیب پر حملہ کر کے 40 غیرملکی ٹیکنیشنز کو یرغمال بنا لیا، بعد ازاں ان میں سے 30 افراد کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔

​2007 میں بلمختار القاعدہ سے منسلک تنظیم سے علاحدہ ہوکر مختلف چھوٹے گروپس ترتیب دیے۔ ان میں"الملثمون بریگیڈ"، "المرابطون بریگیڈ" اور "الموقعون بالدماء بریگیڈ" شامل ہیں۔ گزشتہ برس کے اواخر میں "القاعدة" نے بلمختار سے "مصالحت" کا اعلان کردیا اور ساتھ ہی لیبیا میں داعش تنظیم کے ساتھ اتحاد کی خبروں کی تردید بھی کی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں