مراکش: پیرس حملوں میں ملوّث مشتبہ بیلجیئن شہری گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

مراکش میں حکام نے پیرس حملوں میں ملوّث بیلجیئم کے ایک مشتبہ شہری کو گرفتار کر لیا ہے۔فوری طور پر اس مشتبہ بیلجیئن کی شناخت نہیں بتائی گئی ہے اور اس کا نام صرف جے اے یا جی اے کے حروف سے ظاہر کیا گیا ہے۔

مراکشی پولیس نے سوموار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ''اس مشتبہ شخص کو 15 جنوری کو محمدیہ شہر سے گرفتار کیا گیا تھا۔وہ پیرس کے نواحی علاقے سینٹ ڈینس میں حملہ کرنے والے ایک خودکش بمبار کے ساتھ شام میں گیا تھا''۔

واضح رہے کہ اٹھائیس سالہ بیلجیئن شہری عبدالحمید اباعود کے بارے میں فرانسیسی حکام نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ وہ پیرس حملوں کا رنگ لیڈر تھا۔وہ ان حملوں کے چند روز بعد سینٹ ڈینس میں پولیس کی ایک مکان پر چھاپا مار کارروائی کے دوران مارا گیا تھا۔

مراکش میں گرفتار اس مشتبہ شخص کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ شام میں قیام کے دوران اس نے داعش کے لیڈروں اور پیرس حملوں کے رنگ لیڈر کے ساتھ مضبوط تعلقات استوار کر لیے تھے۔اس نے مختلف ہتھیار چلانے اور گوریلا جنگ کی تربیت حاصل کی تھی۔اس کے بعد وہ شام سے ترکی اور وہاں سے جرمنی ،بیلجیئم اور نیدرلینڈز میں وقت گزارنے کے بعد مراکش آگیا تھا۔

مراکش ہی نے فرانسیسی پولیس کو عبدالحمید اباعود کے بارے میں خفیہ معلومات فراہم کی تھیں جن کی روشنی میں اس کے خلاف کارروائی کی گئی تھی۔مراکشی حکام کو یہ معلومات اس کے ایک بھائی یاسین سے ملی تھیں جو اکتوبرسے مراکش میں زیرحراست ہے۔مراکش نے صلاح عبدالسلام کے بھی وارنٹ گرفتاری جاری کررکھے ہیں۔

بیلجیئم میں پیدا ہونے والا 26 سالہ صلاح عبدالسلام ابھی تک مفرور ہے۔ اسی نے مبیّنہ طور پر پیرس حملوں کی منصوبہ بندی کی تھی۔کچھ عرصہ قبل اس کے بارے میں یہ اطلاع سامنے آئی تھی کہ اس نے ہنگری کا سفر کیا تھا اور وہاں غیر رجسٹر تارکین وطن کی ایک ٹیم بھرتی کی تھی۔

بیلجیئن پولیس کو دارالحکومت برسلز میں 10 دسمبر کو ایک چھاپا مار کارروائی کے دوران ایک فلیٹ سے تین خودکش جیکٹس اور صلاح عبدالسلام کے انگلیوں کے نشان ملے تھے۔

بیلجیئم کے وفاقی پراسیکیوٹر نے ایک ماہ کے بعد جنوری کے اوائل میں دارالحکومت کے علاقے شائربیک میں ایک اپارٹمنٹ سے چھاپا مار کارروائی کے دوران خودکش جیکٹس ملنے کی اطلاع دی تھی۔

سخت گیر جنگجو گروپ داعش نے پیرس میں 13 نومبر 2015ء کو دہشت گردی کے حملوں کی ذمے داری قبول کی تھی۔شہر کے چھے مختلف مقامات پر جنگجوؤں کے خودکش بم دھماکوں اور فائرنگ سے ایک سو تیس افراد ہلاک اور تین سو سے زیادہ زخمی ہوگئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں