.

فرانس کا جلد فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

#فرانس کی حکومت نے کہا ہے کہ اگر #فلسطینی_اتھارٹی اور #اسرائیل کے درمیان امن بات چیت کی بحالی کی مساعی مزید چند ہفتے تعطل کا شکار رہتی ہیں تو #پیرس یک طرفہ طور پر خود مختار فلسطینی ریست کو تسلیم کرلے گا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق فرانسیسی وزیرخارجہ #لوران_فابیوس نے #فلسطین اور اسرائیل پر بات چیت کی فوری بحالی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امن بات چیت کا تعطل خطے میں طویل المیعاد امن کے قیام کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔

خیال رہے کہ پچھلے سال #امریکا کی ثالثی سے فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کے درمیان امن مذاکرات کی بحالی کے لیے کافی تگ ودو کی گئی تھی مگر صہیونی ریاست کے غیر لچک دار رویے کے باعث فریقین میں براہ راست مذاکرات بحال نہیں ہوسکے۔

امریکا نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ مذاکرات بحال کرنے کے ساتھ ساتھ آزاد فلسطینی مملکت کے قیام کے لیے کوئی ٹائم فریم مقرر کرے۔

پیرس میں غیر ملکی سفارت کاروں سے سالانہ ملاقات کے دوران فرانسیسی وزیرخارجہ نے کہا کہ ہم تکرار کے ساتھ فریقین کو خبردار کرتے رہے ہیں کہ امن بات چیت کا تعطل فلسطین اور اسرائیل میں سے کسی کے مفاد میں نہیں بلکہ دونوں ریاستوں کے لیے نقصان دہ ہے۔ امن مذاکرات نہ ہونے سے شدت پسند تنظیم دولت اسلامی’’داعش‘‘ ہی کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سلامتی کونسل کا مستقل رکن ہونے کی حیثیت سے ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کو ناکام نہ ہونے دیں۔

فرانسیسی وزیرخارجہ کے تازہ بیان سے قبل اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کا ایک بیان بھی سامنے آیا ہے جس پراسرائیل نے سخت رد عمل کا اظہار کیا ہے۔ بان کی مون کا کہنا ہے کہ متنازع فلسطینی شہروں میں یہودی بستیوں کا اسرائیل کی ’’اشتعال انگیزی‘‘ اور تنازع فلسطین کے دو ریاستی حل کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ یہودی بستیوں کی تعمیر نے مسئلہ فلسطین کے منصفانہ حل کے حوالے سے کئی طرح کے سوالات کھڑے کردیے ہیں۔

اس سے قبل فرانسیسی وزیرخارجہ فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کے درمیان امن مذاکرات کی بحالی کے لیے یورپی یونین، عرب ممالک اور سلامتی کونسل کے مندوبین پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز بھی پیش کرچکے ہیں جو فریقین پر بات چیت کی بحالی کے لیے دباؤ ڈالنے کے ساتھ ساتھ اپنے رویے میں لچک پیدا کرنے پر کام کرے گی۔

صحافیوں کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے فابیوس نے کہا کہ "چند ہفتوں کے اندر اندر ہم تنازع فلسطین کے دونوں فریقوں، امریکیوں، یورپی مندوبین اور عرب ممالک کے مندوبین کو ایک فورم پر جمع کرنے کی کوشش کریں گے۔ اگر فریقین بات چیت کی بحالی اور قضیہ فلسطین کے دو ریاستی حل پرتیار ہوجاتے ہیں تو ٹھیک ورنہ ہم اپنے طورپر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا اپنی ذمہ داری سمجھیں گے۔"

خیال رہے کہ ماضی میں اسرائیلی حکومت فرانس کی جانب سے مذاکرات کی بحالی کی تجاویز کو مسترد کرتی رہی ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے اپنے ایک سابقہ بیان میں فرانس کی امن مساعی کو ’غیر تعمیری‘ قرار دیا تھا۔

دوسری جانب فلسطینی صدر کے ترجمن نبیل ابو ردینہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی خطے میں امن واستحکام کے قیام اور انتہا پسندی کے تمام مظاہر کے خاتمے کی خاطر ہرممکن تعاون کے لیے تیار ہیں۔ ترجمان نے فرانس کی جانب سے امن بات چیت کی بحالی کی کوششوں کا بھی خیر مقدم کیا۔