.

3000ترکمانی شام سے ترکی ہجرت پر مجبور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی میں ہنگامی حالات اور آفات سے متعلق ایجنسی (أفاد) نے بتایا ہے کہ شام کے صوبے اللاذقیہ کے شمال میں بشار الاسد کی فوجی کی پیش قدمی کے بعد گزشتہ تین روز میں 3000 سے زیادہ ترکمانی اور عرب باشندے سرحد پار کر کے ترکی پہنچے ہیں۔

ایک مقامی ترکمانی ذمہ دار کا کہنا ہے کہ شامی گاؤں یمادی میں قیام پذیر زیادہ تر ترکمانیوں کے انخلاء کے بعد ہزاروں دیگر پناہ گزینوں کے بھی پہنچنے کی توقع ہے۔ شامی حکومت کی فوج شدید روسی فضائی بمباری کی سپورٹ میں مذکورہ گاؤں کے قریب پہنچی تھی۔

أفاد ایجنسی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ "یمادی کیمپ کے حملوں کی زد میں آ جانے کے بعد ہمارے ملک میں داخل ہونے والے پہلے گروپ میں 731 سے زیادہ مہاجرین شامل تھے۔ ان میں زیادہ تر شیرخوار اور چھوٹے بچے، خواتین اور بوڑھے ہیں"۔

اللاذقیہ صوبے میں شامی اپوزیشن کے جنگجوؤں کے زیرانتظام علاقے ربیعہ پر 24 جنوری کو بشار الاسد کی فوج کے کنٹرول نے مقامی آبادی کا انخلاء بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔

دوسری جانب دوغان ایجنسی نے بتایا ہے کہ ترکی نے 10 ہزار ترکمانیوں کے لیے خصوصی کیمپ کی تعمیر مکمل کر لی ہے۔ ان میں ہاتے صوبے کے سرحدی علاقے یائے لاداغی میں آنے والے ترکمان بھی شامل ہیں۔

شام میں ترک زبان بولنے والی اس اقلیت (ترکمان) کے دیہاتوں پر، بشار الاسد کی حکومت کی معاونت کے سلسلے میں روسی طیاروں کی بمباری نے انقرہ حکومت کا غصہ بھڑکا دیا۔

ترکمانی باشندے شام میں کئی دہائیوں سے اپنی ثقافت کے تحفظ اور بشار الاسد حکومت کی پالیسیوں کی مزاحمت کی کوشش کر رہے ہیں، جس کو شامی حکومت یہ ہی خیال کرتی ہے کہ وہ ترکی کے مفاد میں کام کر رہے ہیں۔