.

عراق میں داعش کے مسٹرڈ گیس حملے کی تصدیق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

داعش کے جنگجوؤں کے گذشتہ سال عراق میں کرد فورسز کے خلاف مسٹرڈ گیس کے حملے کی تصدیق ہوگئی ہے۔

ایمسٹرڈیم میں قائم کیمیائی ہتھیاروں کے امتناع کی تنظیم (او پی سی ڈبلیو) کے ایک ذریعے نے بتایا ہے کہ اگست 2015ء میں کرد فورسز کے خلاف سلفر مسٹرڈ کے استعمال کے لیبارٹری ٹیسٹ آگئے ہیں اور وہ مثبت ہیں۔ داعش کے اس حملے میں پینتیس کرد فوجی متاثر ہوئے تھے اور ان کے نمونے مزید تحقیقات کے لیے بھیجے گئے تھے۔

او پی سی ڈبلیو یہ کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے والے کی شناخت ظاہر نہیں کرے گی لیکن ایک مغربی سفارت کار کا اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہنا ہے کہ نتائج سے ثابت ہوگیا ہے کہ داعش کے جنگجوؤں ہی نے کیمیائی ہتھیار استعمال کیے تھے۔عراق میں صدام حسین کی حکومت کے خاتمے کے بعد کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا یہ پہلا واقعہ تھا۔

عراق کے خودمختار علاقے کردستان کے علاقائی دارالحکومت اربیل کے جنوب مغرب میں داعش کے جنگجوؤں نے کرد فورسز البیش المرکہ کے خلاف لڑائی کے دوران زہریلی گیس استعمال کی تھی۔اس سے البیش المرکہ کے 35 فوجی متاثر ہوئے تھے اور ان میں سے بعض کو علاج کے لیے بیرون ملک لے جایا گیا تھا۔اس حملے کے وقت وال اسٹریٹ جرنل نے امریکی حکام کے حوالے سے بتایا تھا کہ داعش نے مسٹرڈ ایجنٹ استعمال کیے تھے۔

قبل ازیں اوپی سی ڈبلیو نے اکتوبر میں پڑوسی ملک شام میں زہریلی گیس کے حملے کی تصدیق کی تھی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ سلفر مسٹرڈ یا تو شام کے کیمیائی ہتھیاروں کے کسی خفیہ ذخیرے سے حاصل کی گئی تھی یا پھر جنگجوؤں نے اس کی تیاری کے لیے جان کاری حاصل کر لی تھی اور اس کے راکٹوں اور مارٹروں کے ساتھ حملے کیے تھے۔

واضح رہے کہ عراق میں صدام حسین کے دور حکومت ہی میں بیشتر کیمیائی ہتھیاروں کو تباہ کردیا گیا تھا۔البتہ امریکی فوجیوں کو بھی عراق پر قبضے کے دوران بعض کیمیائی ہتھیاروں کی موجودگی کا پتا چلا تھا۔شام 2013ء میں دمشق کے نواح میں واقع ایک قصبے میں زہریلی گیس کے حملے کے بعد اپنے کیمیائی ہتھیاروں کے ذخیرے سے دستبردار ہوگیا تھا۔

سلفر مسٹرڈ پہلے درجے کا کیمیائی ہتھیار ہے۔کیمیائی ہتھیاروں کی جنگ کے علاوہ یہ چند ایک مواقع پر ہی استعمال کی جاسکتی ہے۔یہ پہلی عالمی جنگ میں استعمال کی گئی تھی۔اس سے آنکھوں اور جلد جلنے سے شدید زخم آجاتے ہیں اور نظام تنفس بھی بری طرح متاثر ہوتا ہے۔