.

ترکی : سعودی اور اماراتی فوجی ٹیمیں انجرلیک پہنچ گئیں

سعودی طیاروں کی آمد آج یا کل متوقع !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے وزیر خارجہ مولود جاویش اوگلو نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی فوجی ٹیموں اور سازوسامان کے ترکی پہنچ جانے کی تصدیق کی ہے۔ ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ (داعش کے خلاف برسرجنگ اتحاد کے سلسلے میں) سعودی طیاروں کی آج یا کل کسی بھی وقت انجرلیک کے فوجی اڈے آمد متوقع ہے۔

ترک وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ شام میں عبوری حکومت سب ہی کا تقاضا ہے... اور ایسا نہیں ہوگا کہ شامی اپوزیشن خسارے میں رہے۔

اناضول نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے اوگلو کا کہنا تھا کہ "شامی حکومت اور روس نے سابقہ فیصلوں کی پاسداری نہیں کی.. اور جنیوا میں شام سے متعلق خصوصی مذاکرات روسی فضائی حملوں کی وجہ سے روک دیے گئے"۔

کردوں کے تحفظ کے یونٹ شام کی تقسیم کے لیے کوشاں

داعش پر وار کرنے کے لیے امریکا کی جانب سے کردوں کے تحفظ کے یونٹوں کی سپورٹ کے متعلق ترک وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے امریکا کے موقف میں تضاد پایا جاتا ہے۔ ایک دہشت گرد تنظیم سے برسرجنگ ہونے کے لیے کسی دوسری دہشت گرد تنظیم پر اعتماد کرنا انتہائی خطرناک بات ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ کردوں کے تحفظ کے یونٹوں کی فورسز بھی داعش تنظیم کی طرح شام کو تقسیم کرنے کے لیے کام کررہی ہیں، لہذا شامی سرزمین کی یکجہتی کو برقرار رکھا جانا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ " (شام میں) کرد ڈیموکریٹک یونین پارٹی اور کردوں کے تحفظ کے یونٹوں کا مقصد واضح ہے۔ وہ بالکل داعش کی طرح شام کی تقسیم چاہتے ہیں تاکہ اپنی علاحدہ انتظامیہ کا قیام عمل میں لاسکیں"۔

ڈیموکریٹک یونین پارٹی، کرد عوام کے تحفظ کے یونٹوں (فورسز) کا سیاسی دھڑ ہے۔

ترک وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ "ہم شام کو سپورٹ کرنے والے بین الاقوامی گروپ میں شامل ہیں، ہمارا مقصد شامی اراضی کو کسی ایک فریق کے حوالے کرنا نہیں بلکہ صرف تبدیلی کے عمل کو کامیاب بناکر اس کی یکجہتی کو یقینی بنانا ہے۔