.

خود کش بمباروں کی بھرتی، بشاراور داعش میں قدر مشترک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

#شام میں اپنی ظالم حکومت بچانے کے لیے لاکھوں بے گناہ لوگوں کی زندگیوں کے چراغ گل کرنے والے صدر #بشار_الاسد اور بے رحمی میں مشہور شدت پسند دولت اسلامی ’’#داعش‘‘ کے درمیان کئی قدریں مشترک ہیں۔ ان مشترکہ اقدار میں خود کش بمبار بھرتی کرنا بھی شامل ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق داعشی خلیفہ ابو بکر البغدادی اور بشار الاسد دونوں ہی بہت کم منظرعام پرآتے ہیں۔ عموما وہ ’پردے کے پیچھے‘ سے خطاب کرتے یا پیغام دیتے ہیں مگر ان کے دفاع اور حمایت میں لڑنے والوں میں بڑی تعداد میں خود کش بمبار موجود ہیں۔ داعش کے پاس خود کش بمباروں کی تعداد ممکن ہے اسدی بمباروں سے زیادہ ہو۔

حال ہی میں سماجی کارکنوں نے بشار الاسد کے ایک اجرتی قاتل کی تصویر انٹرنیٹ پر پوسٹ کی ہے جس کا تعارف نسیم صالح المعروف ’ری پبلیکن گارڈز‘ کے ’’شیر‘‘ کے لقب سے کیا گیا ہے اور کہا ہے کہ اس نے ’’خناصر‘‘ کے مقام پر اس وقت خود کشی کی تھی جب وہ داعش کے گھیرے میں آگیا تھا۔

خناصر کے مقام پر داعش کے ساتھ لڑائی کے دوران نسیم صالح داعشی جنگجوؤں کے نرغے میں آگیا تھا اور اس نے گرفتاری سے بچنے کے لیے خود کو دھماکے سے اڑا دیا جس کے نتیجے میں اسی موقع پر اس کی موت ہوئی۔

نسیم صالح کی خودکشی کا واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا جب اردن میں شام کے سابق سفیر بھجت سلیمان نے بشارالاسد کی حمایت میں لڑنے والوں پر زور دیا تھا کہ وہ دشمن کے ہاں قیدی بننے بچنے کی کوشش کریں، چاہے انہیں خود کشی ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ شامی فوج کے کسی اہلکار نے گرفتاری سے بچنے کے لیے خود کشی کی ہے۔ اس سے قبل سنہ 2015ء میں بھی تمام احمد نامی فوجی نے بھی گرفتاری سے بچنے کے لیے خود کشی کی تھی۔ قبل ازیں السویداء کے مقام پر شامی فوج کے ایک پائلٹ حسن محمد محمود نے بھی داعش کے ہاں گرفتاری سے بچنے کے لیے خود کو دھماکے سے اڑا دیا تھا۔