.

القاعدہ، حزب اللہ اور ایران کے درمیان تعاون کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

گزشتہ ہفتے نیویارک میں امریکی فیڈرل کورٹ کی جانب سے ایران کے خلاف اربوں ڈالر کے جرمانے کا فیصلہ سنایا گیا۔ یہ رقم 11 ستمبر کے حملوں میں ہلاک ہونے والے امریکیوں کے اہل خانہ اور مالی نقصان اٹھانے والی انشورنس کمپنیوں کو بطور ہرجانہ ادا کی جائے گی۔

عدالت میں پیش کیے جانے والے خفیہ دستاویزات سے.. جن کی تعداد چھ ہے اور روزنامہ "الشرق الاوسط" نے ان کو شایع بھی کیا ہے.. قطعی طور پر ثابت ہوتا ہے کہ ایران نے القاعدہ کے ایجنٹوں کی افغانستان میں تربیتی کیمپوں تک منتقلی کے لیے سہولت کار کے فرائض انجام دیے.. جو کہ 11 ستمبر کی کارروائیاں کامیاب بنانے کے لیے ضروری تھا۔

دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ لبنانی تنظیم حزب اللہ کے ایک لیڈر عماد مغنیہ نے اکتوبر 2000 میں حملہ آوروں سے ملاقات کی اور نئے پاسپورٹوں کے ساتھ ان افراد کے ایران کے لیے سفر میں تعاون کیا۔ یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ ایرانی حکومت نے اپنی سرحد پر موجود نگرانوں کو حکم جاری کیا تھا کہ مذکورہ حملہ آوروں کے پاسپورٹوں پر واضح مہریں نہ لگائی جائیں تاکہ ان کی منتقلی کا عمل آسان بنایا جاسکے۔

ایران نے 11 ستمبر کے واقعات کے بعد بھی القاعدہ کی سپورٹ کا سلسلہ جاری رکھا اور تنظیم کی قیادت کو محفوظ پناہ گاہیں بھی پیش کیں۔

دستاویزات میں 1993 میں سوڈان کے دارالحکومت خرطوم میں ہونے والی ایک ملاقات کا بھی حوالہ دیا گیا ہے.. ملاقات میں القاعدہ کے سابق سربراہ اسامہ بن لادن، موجودہ سربراہ ایمن الظواہری کے علاوہ عماد مغنیہ اور ایرانی ذمہ داران نے شرکت کی تاکہ مشترکہ تعاون کے لیے اتحاد قایم کیا جاسکے۔

روزنامہ "الشرق الاوسط" نے (نام ظاہر کیے بغیر) ایک عدالتی ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایران کے خلاف دائر مقدمے میں چھ شخصیات اور کئی اداروں کو ملزم ٹھہرایا گیا ہے۔ شخصیات میں ایرانی مرشد اعلی آیت اللہ علی خامنہ ای، انٹیلجنس اور سیکورٹی کے وزیر علی فلاحیان، ایرانی پاسداران انقلاب کے نائب کمانڈر اور جنرل محمد باقر ذو القدر شامل ہیں۔ ان کے علاوہ ایرانی وزارت انٹیلجنس، پاسداران انقلاب اور اس کے زیرانتظام فیلق القدس تنظیم کے نام بھی ہیں۔

اگرچہ ایران اور "حزب الله" شیعہ فرقے سے تعلق رکھتے ہیں جب کہ القاعدہ سنی تنظیم ہے.. اس کے باوجود القاعدہ اور ایران کے تعلقات نے ظاہر کردیا کہ ضروری نہیں کہ فرقہ وارانہ اختلاف دہشت گردی کی کارروائیوں کے سلسلے میں تعاون کی راہ میں رکاوٹ بنے۔ القاعدہ کے کئی نمایاں ایجنٹوں نے دھماکا خیز مواد کے استعمال کی تربیت حاصل کرنے کے لیے ایران کا سفر کیا۔

1993 میں خرطوم میں ہونے والی ملاقات کے بعد اسامہ بن لادن نے اپنے مزید کارندوں کو.. جن مین سیف العدل بھی شامل ہے(جو بعد میں القاعدہ میں تیسری اہم ترین شخصیت بن گیا).. لبنان اور ایران میں حزب اللہ کے تربیتی کیمپوں میں بھیجا جو عماد مغنیہ اور پاسداران انقلاب کے زیرانتظام چل رہے تھے۔

دستاویزات میں انکشاف ہوا ہے کہ "حزب الله" نے "القاعدہ" کے ایجنٹوں کو بڑی عمارتیں دھماکوں سے تباہ کرنے کی تربیت دی۔ اسی طرح ان کو انٹیلجنس اور سیکورٹی کی خصوصی تربیت بھی فراہم کی گئی۔

"القاعدہ"، ایران اور "حزب الله" کے درمیان تربیتوں کا یہ سلسلہ 90ء کی پوری دہائی میں چلتا رہا۔

عدالتی ذریعے نے مزید بتایا کہ 11 ستمبر کے روز جہازوں کے اکثر اغوا کنندگان نے ایران کے راستے افغانستان آمدورفت جاری رکھی۔ انہوں نے ایران میں پاسپورٹوں پر مہریں نہ لگائے جانے کا فائدہ اٹھایا۔ اس طرح ایران نے 11 ستمبر کے واقعات سے قبل القاعدہ کے ارکان کی افغانستان آمدورفت کو آسان بنایا۔