اوباما نے ایران سے متعلق سعودی انتباہ پر کان نہ دھرا : امریکی مشیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

امریکا کے سابق صدر جارج بش (جونیئر) کے دور میں قومی سلامتی کی مشیر رہنے والی فرانسس ٹاؤنسینڈ نے عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب کے حوالے سے صدر باراک اوباما کی انتظامیہ کے پالیسی موقف سے پیچھے ہٹنے پر.. ان ممالک کے ساتھ گہری ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔

عربی روزنامے "الشرق الاوسط" کے مطابق ٹاؤنسینڈ کا کہنا ہے کہ "ایسے وقت میں جب کہ خطے کے ممالک یہ محسوس کررہے ہیں کہ وہ ایرانیوں کی جانب سے ایک بڑے خطرے میں گھرے ہوئے ہیں.. یہ ممالک دیکھ رہے ہیں کہ ان کا تاریخی حلیف امریکا اس دشمن کی جانب ہوگیا ہے جس سے ہمیں سعودی عرب نے خبردار کر دیا تھا.. مگر اوباما انتظامیہ نے اس نصیحت پر کان نہیں دھرے"۔

تاؤنسینڈ نے زور دے کر کہا کہ ان کے نزدیک خطے کے ممالک عمومی طور پر اور خلیجی ممالک خاص طور پر "ایک قسم کی خیانت" محسوس کررہے ہیں.. یہ اس نقصان کی وجہ سے ہے جو ان ملکوں کے امریکا کے ساتھ تاریخی تعلقات کو پہنچا۔

انہوں نے مزید کہا کہ "ہمارا اور خطے میں ہمارے حلیف ملکوں کا امن مضبوط شکل میں مربوط تھا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سعودی ہمارے شانہ بشانہ لڑے.. انسداد دہشت گردی کے حوالے سے سعودی عرب ہمارا سب سے زیادہ طاقت ور حلیف اور خطے میں القاعدہ تنظیم کے خلاف سب سے زیادہ قدرت رکھنے والا ملک تھا"۔

اس سوال کے جواب میں کہ خطے میں امریکا کے روایتی عرب اتحاد کی بحالی اور اسے معمول پر لانے کے لیے آئندہ امریکی صدر کو کیا اقدامات کرنا ہوں گے... سابق مشیر کا کہنا تھا کہ "تعلقات استوار کرنے سے بھی قبل یہ معاملہ اعتماد کی بحالی کا متقاضی ہے.. جہاں ایک طرف صدر اوباما نے داخلی سیاست میں بہت کچھ حاصل کیا ہے.. تو دوسری طرف خطے میں ہمارے روایتی حلیفوں کے ساتھ تعلقات کو بھی نقصان پہنچا ہے.. نہ صرف ہمارے سعودی ساتھیوں کے ساتھ تعلق کا خسارہ ہوا بلکہ اماراتیوں اور بحرینیوں کے ساتھ تعلق کو بھی دھچکا پہنچا ہے"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size