.

لبنان: انسانی تجارت میں ملوث عناصر کو عبرت ناک سزائوں کا مطالبہ

خواتین کی عزت وناموس کی حفاظت حکومت کی ذمہ داری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

#لبنان میں حال ہی میں انسانی تجارت اور جسم فروشی کے مکروہ دھندہ چلانے والے ایک وسیع نیٹ ورک کے بے نقاب ہونے کے بعد ملک میں حقوق نسواں کےلیے کام کرنے والے اداروں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ انسانی تجارت اور جسم فروشی جیسے مکروہ جرم میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے مجرموں کو عبرت ناک سزائیں دی جائیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق لبنان میں مقامی تنظیموں، شامی اور فلسطینی شہریوں کی جانب سے بھی #بیروت حکومت سے پرزور مطالبہ کیا گیاہے کہ وہ انسانی تجارت، انسانی اسمگلنگ اور جسم فروشی جیسے بدترین انسانی جرم میں ملوث عناصر کو بے نقاب کرکے ان کے خلاف سخت کارروائی کرے اور تحقیقات کے حوالے سے پوری قوم کو آگاہ کرتے ہوئے ایسے جرائم پیشہ عناصر کو حاصل سیاسی تحفظ ختم کرکے انہیں قانون کے کٹہرے میں کھڑا کرے۔

خیال رہے کہ حال ہی میں لبنان میں انسانی اسمگلنگ اور جسم فروشی کے دہندے میں ملوث ایک گینگ کا انکشاف ہوا تھا جس کے قبضے سے 70 خواتین کو بھی بازیاب کرایا گیا تھا۔ اس واقعے کے بعد نہ صرف لبنان بلکہ دنیا بھر میں انسانی اسمگلنگ کے خلاف آوازیں بلند ہونا شروع ہوگئی تھیں۔

لبنان میں انسانی حقوق بالخصوص خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے بیروت حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ انسانی تجارت کے مکروہ دہندے میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی میں تاخیر سے کام نہ لے۔ ایسے جرائم پیشہ عناصر کا سیاسی تحفظ ختم کیا جائے اور انہیں کڑی سے کڑی سزائیں دی جائیں تاکہ آئندہ کےلیے ایسے جرائم کرنے والوں کے لیے عبرت کا سامان بن جائے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں نے ملک میں جسم فروشی کے اڈے چلانے والوں، خواتین کو عصمت فروشی پر مجبور کرنے والوں اور انسانی خرید وفروخت میں ملوث جرائم پیشہ عناصر کی موجودگی پر حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہےاور کہا ہے کہ اگر ملک میں اس نوعیت کے مافیا موجود ہیں تو حکومت کہاں سوئی ہوئی ہے۔ خواتین کی عزت وناموس کی حفاظت حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اگر ریاستی قوانین خواتین کو حقوق اور انہیں تحفظ دلانے میں ناکام رہیں تو قانون میں ترامیم کی جائیں تاکہ آئندہ انسانی اسمگلنگ اور جسم فروشی جیسے مکروہ جرائم کی بیخ کنی کی جاسکے۔

واضح رہے کہ لبنان سے پکڑے جانے والے انسانی اسمگلنگ نیٹ ورک کے بارے میں پتا چلا ہے کہ وہ کئی دوسرے عرب اور مغربی ملکوں تک پھیلا ہوا ہے۔ یہ گروپ مختلف ممالک سے خواتین کو غیرقانونی طور پر جسم فروشی اور دیگر جرائم کے لیے اپنے چنگل میں پھنسانے کے بعد انہیں آگے فروخت کرتا رہا ہے۔