.

بن لادن گروپ کے ملازمین کے پُرتشدد احتجاج کی تحقیقات

احتجاج کے دوران سات بسوں کو نذرآتش کرنے کے الزام میں سات مظاہرین گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں سب سے بڑی تعمیراتی کمپنی بن لادن گروپ کے ملازمین کے پُرتشدد احتجاج کی تحقیقات شروع کردی گئی ہے۔

مقامی میڈیا کی اطلاع کے مطابق بن لادن گروپ کے گذشتہ کئی مہینوں سے تن خواہوں سے محروم اور اب فارغ ملازمین کی بڑی تعداد نے گذشتہ روز سات بسوں کو نذر آتش کردیا ہے۔انھوں نے یہ پُرتشدد کارروائی انتظامیہ کے ساتھ توتکار کے بعد کی ہے۔بن لادن گروپ کی بسوں کو نذر آتش کیے جانے کے واقعے میں ملوّث سات مظاہرین کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

مکہ کے محکمہ شہری دفاع کے ترجمان میجر نایف الشریف نے بتایا ہے کہ آگ بجھانے والے عملہ نے رات ان بسوں کو لگی آگ پر قابو پا لیا تھا اور اس واقعے میں کوئی شخص زخمی نہیں ہوا ہے۔تاہم بن لادن گروپ سے تعلق کی بنا پر پوری دنیا کے میڈیا نے اس واقعے کو رپورٹ کیا ہے۔

بن لادن گروپ کے ایک ذریعے سعودی روزنامے الوطن کو بتایا ہے کہ سوموار کے روز ملازمین کے اخراج کے ستتر ہزار حتمی اجازت نامے جاری کیے گئے ہیں اور کم سے کم بارہ ہزار سعودی شہری بھی ملازمتوں سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔

اطلاعات کے مطابق بن لادن گروپ کے ہزاروں ملازمین گذشتہ کئی ہفتوں سے مکہ اور ساحلی شہر جدہ میں احتجاجی مظاہرے کررہے ہیں۔ان میں سے کئی ملازمین کا کہنا ہے کہ انھیں گذشتہ چار ماہ سے تن خواہیں ادا نہیں کی گئی ہیں۔

ایک اور سعودی روزنامے عکاظ کی رپورٹ کے مطابق بن لادن گروپ کے سعودی ملازمین کو آپشن دیا گیا ہے کہ وہ کمپنی کے مالی اثاثے کلئیر ہونے تک اپنی واجب الادا تن خواہوں کا انتظار کریں یا پھر دو ماہ کی تن خواہیں لے کر استعفے دے دیں۔

یاد رہے کہ گذشتہ سال ستمبر میں بن لادن گروپ کی حج سیزن کے دوران مسجد الحرام کے توسیعی منصوبے پر کام میں مصروف ایک بڑی کرین طوفان کے نتیجے میں گر گئی تھی جس سے مسجد الحرام میں ایک سو سات افراد شہید ہوگئے تھے۔اس واقعے کے بعد سعودی حکومت نے بن لادن گروپ کو نئے تعمیراتی ٹھیکے دینے کا عمل معطل کردیا تھا اور اس کے ڈائریکٹروں کے بیرون ملک جانے پر پابندی عاید کردی تھی۔

حکومت کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق کرین مناسب طریقے سے نصب نہیں کی گئی تھی۔اس رپورٹ میں متعلقہ انجینیر کو واقعے کا ذمے دار قرار دیا گیا تھا اور بن لادن گروپ کو واقعےمیں شہید افراد کے لواحقین اور زخمیوں کو معاوضہ دینے کا حکم دیا گیا تھا۔اس کے بعد یہ رپورٹ بھی سامنے آئی تھی کہ بن لادن گروپ اپنے ملازمین کی تعداد میں پندرہ ہزار کی کمی کررہا ہے لیکن اس سے اس کے جاری تعمیراتی منصوبوں پرکوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔