.

اسرائیلی وزراء کا ڈپٹی آرمی چیف کے ہولوکاسٹ سے متعلق بیان پر سخت ردعمل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل کے بعض سخت گیر وزراء نے آرمی کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف کے ہولوکاسٹ سے متعلق بیان پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے جس میں انھوں نے ہولو کاسٹ سے قبل کے جرمنی کا موجودہ اسرائیل میں رجحانات سے موازنہ کیا تھا۔

میجر جنرل یائر گولان نے ہولو کاسٹ اسٹڈی سنٹر میں ہولوکاسٹ کے دن کی مناسبت سے منعقدہ تقریب سے بدھ کو خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ''اگر کوئی چیز مجھے ہولوکاسٹ کی یاد سے خوف زدہ کرتی ہے تو یہ یورپ میں عمومی طور پر اور جرمنی میں بالخصوص 70،80 اور 90 سال قبل کے خوفناک رجحانات تھے۔ان میں سے بعض کی علامتیں اب 2016ء میں ہم بھی پائی جاتی ہیں''۔

انھوں نے کہا کہ ''اسرائیلیوں کو ہولوکاسٹ کے دن کے موقع پر ہمارے درمیان موجود عدم رواداری ،تشدد ،خود تباہی اور اخلاقی زوال ایسی خرابیوں کے خاتمے کے لیے اپنی صلاحیتوں کے حوالے سے گفتگو کرنی چاہیے''۔

انھوں نے مارچ میں ایک کیس کا حوالہ دیا ہے جس میں ایک غربِ اردن میں ایک اسرائیلی فوجی پر ایک زخمی فلسطینی کو قتل کرنے کے الزام میں فرد جرم عاید کی گئی ہے۔انھوں نے کہا کہ ''ہم جو کچھ کررہے ہیں،وہ سب درست نہیں ہے۔اسرائیلی آرمی مسئلہ پیدا کرنے والی سرگرمی کو کور نہیں کرتی ہے''۔

اسرائیلی وزیرتعلیم نفتالی بینیٹ نے مسٹر گولان کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنا بیان درست کریں کیونکہ ان کے بہ قول اسرائیلی فوجیوں کے نازیوں سے موازنے کا مطلب ہولوکاسٹ سے انکار کے مترادف ہے۔وزیر انصاف ایلات شیکڈ نے گولان کو کنفیوژ شخص قراردیا ہے اور کہا ہے کہ ان کے بیان سے لگتا ہے کہ وہ ہولوکاسٹ کے بارے میں بہتر تفہیم نہیں رکھتے ہیں۔

دوسری جانب اپوزیشن لیڈر اسحاق ہرزوگ نے گولان کو ایک بہادر شخص قراردیا ہے اور کہا ہے کہ اخلاقیات اور ذمے داری کا یہی تقاضا ہے۔

اسرائیلی فوج نے بدھ کو ایک بیان میں وضاحت کی ہے کہ گولان اسرائیل اور اس کی فوج کا ستر سال قبل جرمنی کی ہولناک تباہ کاریوں سے موازنہ کرنا چاہتے تھے اور نہ انھوں ایسا کوئی موازنہ کیا ہے۔اس لیے ایسا کہنا بالکل مضحکہ خیز اور بے بنیاد ہے۔

اسرائیل میں بدھ کو جرمن نازیوں کے ہاتھوں دوسری عالمی جنگ کے دوران یہود کے مبینہ قتل عام کی یاد میں تقریبات منعقد کی گئی ہیں اور جمعرات کو دو منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔جرمن مرد آہن ایڈولف ہٹلر کی فوج نے مبینہ طور پر ہولوکاسٹ کے دوران قریباً ساٹھ لاکھ یہودیوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا تھا۔محققین ہلاکتوں کے ان اعداد وشمار کی صحت کو تسلیم نہیں کرتے ہیں اور وہ اکثر سوال اٹھاتے رہتے ہیں۔واضح رہے کہ بہت سے یورپی ممالک میں ہولوکاسٹ سے انکار ایک قابل سزا جرم ہے۔