.

تیونس : القاعدہ سے وابستہ دو سیلوں کے مشتبہ ارکان گرفتار

خریداری مراکز اور سیاسی جماعتوں پر حملوں کی منصوبہ بندی کررہے تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس کی سکیورٹی فورسز نے القاعدہ سے وابستہ دو سیل توڑ دیے ہیں اور ان میں شامل نومشتبہ دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا ہے۔تیونس کی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ یہ سیل ملک میں بڑے خریداری مراکز ( شاپنگ مالز) اور سیاسی جماعتوں پر حملوں کی منصوبہ بندی کررہے تھے۔

بیان کے مطابق ان جنگجوؤں نے القاعدہ سے وابستہ گروپ عقبہ بن نافع بٹالین کی بیعت کررکھی تھی۔تیونس کی سکیورٹی فورسز نے ان جنگجوؤں کو پکڑنے کے لیے الجزائر کی سرحد کے نزدیک واقع کیف کے علاقے میں کارروائی کی ہے لیکن یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ یہ کارروائی کب کی گئی تھی۔

وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ ایک سیل کے قبضے سے دھماکا خیز مواد برآمد کر لیا گیا ہے۔یہ سیل خریداری مراکز ،فوجی اور سکیورٹی تنصیبات اور سیاست دانوں یا سیاسی جماعتوں پر حملوں کی منصوبہ بندی کررہا تھا۔دوسرا سیل پانچ ارکان پر مشتمل تھا اور یہ کیف کے پہاڑی علاقے ہی میں موجود دہشت گردوں کے ایک گروپ کی مالی معاونت کررہا تھا۔

یاد رہے کہ جون 2015ء میں تیونس کے مشہور ساحلی سیاحتی مقام سوسہ میں ایک ہوٹل کے احاطے میں ایک مسلح شخص نے سیاحوں پر اندھا دھند فائرنگ کردی تھی جس کے نتیجے میں اڑتیس افراد ہلاک اور انتالیس زخمی ہوگئے تھے۔ مرنے والوں میں تیس برطانوی شہری اورباقی جرمن اور بیلجئین سیاح شامل تھے۔وہ اختتام ہفتہ منانے کے لیے تیونس آئے تھے۔

تیونس میں غیرملکی سیاحوں پر اس سال یہ دوسرا بڑا حملہ تھا۔اس سے پہلے دارالحکومت تیونس کے مشہور باردو عجائب گھر پر 18 مارچ کو مسلح افراد نے حملہ کیا تھا۔اس واقعے میں غیرملکی سیاحوں سمیت بائیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔داعش نے تیونس کے اس تاریخی عجائب گھر پر حملے کی ذمے داری قبول کی تھی۔

تیونسی حکام کا کہنا تھا کہ سوسہ اور دارالحکومت تیونس میں واقع مشہور باردو میوزیم پر حملے کرنے والوں نے گذشتہ سال کے آخر میں لیبیا کے بد امنی کا شکار جنوبی سرحدی علاقے میں عسکری تربیت حاصل کی تھی۔واضح رہے کہ تیونس کی سکیورٹی فورسز 2012ء سے جبل الشعانبی کے علاقے میں ''اسلامی مغرب میں القاعدہ'' اور دوسرے جنگجوؤں کے خلاف نبرد آزما ہیں۔