.

رمضان میں مسجد الحرام میں سکیورٹی کے سخت انتظامات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مکہ مکرمہ میں مسجد الحرام میں رمضان المبارک کی آمد سے قبل سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے جارہے ہیں اور قانون نافذ کرنے ادارے ہائی الرٹ کی تیاری کررہے ہیں۔

مکہ مکرمہ میں رمضان کے دوران دنیا بھر سے معتمرین کی بڑی تعداد میں آمد ہوگی اور اس کے پیش نظر سعودی پولیس مسجد الحرام کے اندر اور اس کے باہر لوگوں کے ہجوم کو منظم رکھنے کے منصوبے پر عمل درآمد کو تیار ہے۔

مسجد الحرام میں سکیورٹی فورسز کے ایک لاکھ 80 ہزار اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ان میں حج اور عمرے کے لیے فورسز ،مسجد الحرام کی پولیس ،مکہ پولیس اور الحرمین الشریفین کی پریزیڈینسی کی سکیورٹی کے اہلکار شامل ہیں۔

سکیورٹی فورسز کمپیوٹر سکرینوں پر ٹیکنیکل سسٹم کے ذریعے بھی مسجد الحرام کی نگرانی کرتی ہیں۔اس سسٹم کے ساتھ مسجد الحرام کے داخلی دروازوں ،چھت اور اس کی جانب آنے والے راستوں پر نصب ساڑھے سات سو سے زیادہ کیمرے منسلک ہیں اور ان کے ذریعے تمام نقل وحرکت کی نگرانی کی جاتی ہے۔

رمضان المبارک کے دوران عشاء اور تراویح کی نماز کے بعد ہزاروں کی تعداد میں فرزندان توحید کی مسجد الحرام میں آمد متوقع ہے اور اس ماہ مقدس میں نمازجمعہ کے موقع پر بھی عبادت گزاروں کی معمول سے کہیں زیادہ تعداد آئے گی۔

مسجد الحرام کے لیے سکیورٹی پلان کے تحت لوگوں کا کسی ایک جگہ ہجوم ہونے سے روکا جاتا ہے،انھیں خالی جگہوں کی جانب جانے کی ہدایت کی جاتی ہے اور نمازوں کے بعد داخلی دروازوں سے ان کے بہ طریق احسن گذر کو یقینی بنایا جاتا ہے ۔اس کے علاوہ ممکنہ چوروں اور بھکاریوں کی نقل وحرکت پر بھی نظر رکھی جاتی ہے اور موٹرسائیکل اور بائیسکل سواروں کو مسجد الحرام کے نزدیکی علاقے میں داخل ہونے سے روکا جاتا ہے۔

مسجد الحرام کی خصوصی فورسز نے عارضی مطاف کو ہٹانے کے وقت بھی اس منصوبے پر عمل کیا اور انھوں نے کعبۃ اللہ کے ساتھ جگہوں کی جانب ہجوم کا رُخ موڑا اور انھیں منظم کیا تھا۔اس کے علاوہ ہجوم لگنے سے بچنے کے لیے داخلی اور خارجی راستوں کو کنٹرول کیا تھا۔

مسجد الحرام کی پولیس فورس کے سربراہ میجر جنرل محمد بن واصل الاحمدی نے بتایا ہے کہ کعبہ کے نزدیک لوگوں کا ہجوم بننے سے روکنے کے لیے داخلی دروازوں پر پولیس اہلکاروں کی تعداد میں اضافہ کردیا گیا ہے اور ہم نے زائرین کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے تمام اہم مقامات کی کڑی نگرانی شروع کردی ہے۔