.

حج پر سیاست کے پس پردہ ایرانی فرقہ وارانہ مقاصد ہیں: الحسینی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان میں "عرب اسلامی کونسل" کے سکریٹری جنرل علامہ سيد محمد علی الحسينی کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اپنے فرائض پوری ایمان داری، سچائی اور اخلاص کے ساتھ ادا کر رہا ہے اور بیت اللہ کے حجاج کے کے لیے جو کچھ اس کے اختیار میں ہے وہ خدمات پیش کرتا ہے۔ مملکت کسی کے ساتھ غفلت اور امتیازی سلوک نہیں برت رہی۔ انہوں نے کہا کہ ولایت فقیہ کے نظام کی وجہ سے "حج اور سیاسی نعروں" کی بدعت نمودار ہوئی۔

"العربيہ ڈاٹ نیٹ" کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے علامہ الحسینی نے کہا کہ "یہ بات بالکل واضح تھی کہ مقصد صرف فریضے کو سیاست سے آلودہ کرنا اور اسے ان مقاصد کے لیے استعمال کرنا جن کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں"۔ انہوں نے کہا کہ ولایت فقیہ کا نظام ایک "فکری اور سیاسی" منصوبہ رکھتا ہے جس کے تحت خطے کے ممالک کے خلاف اس کے نفاذ کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس سلسلے میں مسلکی اشتعال انگیزی، مظلومیت کا پرچار اور مسئلہ فلسطین جیسے مختلف حیلوں کو استعمال کیا جارہا ہے۔ انہوں نے باور کرایا کہ بشار الاسد کی حکومت ان بنیادی ذرائع میں سے ہے جن کے ذریعے مذہبی انتہاپسندی اور دہشت گردی کو پھیلایا جارہا ہے۔"

الحسینی کے مطابق حج کے فریضے کی ادائیگی کا طریقہ وہ ہی جس طرح ہمارے رسول علیہ الصلات والسلام نے ادا کیا۔ سال ہا سال سے فریضہ یہ سنت نبوی کے مطابق ہر قسم کی بدعتوں سے دور رہ کر پورا کیا جارہا ہے۔

ایران اور عرب ممالک کے درمیان اختلاف کے حوالے سے علامہ الحسینی کا کہنا تھا کہ یہ امتیازی طور پر ایک سیاسی اختلاف ہے۔ ولایت فقیہ کے نظام کا رسوخ سرطان کی مانند ہے جس کا قلع قمع کیا جانا چاہیے۔ اگر یہ نظام کہیں نافذ ہوا تو پھر وہاں کی صورت حال وہ ہی ہوگی جو اب عراق، شام، لبنان اور یمن کی ہے۔

علامہ الحسینی کا کہنا تھا کہ شام میں ایرانی مداخلت کا بنیادی طور پر مقصد محض بشار الاسد کی حکومت کو بچانا نہیں ہے بلکہ ایران اپنے فکری اور سیاسی منصوبے کے نفاذ کے ایک اہم ترین ستون کو بچانے کی کوشش کررہا ہے۔ ایران کا شام میں مداخلت کے لیے دہشت گردی کے خلاف لڑنے کا جواز پیش کرنا انتہائی مضحکہ خیز امر ہے اس لیے کہ شامی حکومت کا نظام تو خود انتہاپسندی اور دہشت گردی پیدا کرنے اور اسے باہر پھیلانے کا ایک اڈہ ہے۔ ہمیں اس بات کو مدنظر رکھنا چاہیے کہ بشار الاسد کے سقوط کا مطلب تہران میں ایرانی نظام کے سقوط کی الٹی گنتی کا شروع ہوجانا ہے۔

عراق کی شناخت بدلنے کی کوشش سے متعلق ایرانی منظرنامے اور فلوجہ اور دیگر علاقوں میں موبیلائزیشن ملیشیاؤں کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں علامہ الحسینی نے کہا کہ عراقی عوام من حیث القوم اس بات کو جاننا شروع ہوگئے ہیں کہ ایران ان کے ملک میں فرقہ واریت کا کون سا کھیل کھیلنے کے لیے کوشاں ہے۔ پاپولر موبئیلازیشن کی ملیشیائیں درحقیقت عراق میں ایرانی رسوخ اور غلبے کا ہی مظہر ہیں۔

یہ فورسز صرف تہران سے ہی اپنے لیے احکامات اور ہدایات وصول کرتی ہیں۔ ہمارے خیال میں یہ ملیشیائیں فلوجہ میں جن جرائم کا ارتکاب کریں گی وہ ان کارروائیوں سے ملتے جلتے ہوں گے جو ان فورسز نے دیالی، رمادی اور صلاح الدین کے علاقوں میں کیا تھا۔

علامہ الحسینی کے مطابق ولایت فقیہ کا نظام اپنے منصوبوں پر عمل درامد کے لیے شیعہ عربوں کو "کاٹھ کا گھوڑا" بنا رہا ہے۔ ایران شیعہ عربوں کو اپنے وطن، عوام اور یہاں تک کہ اپنی شاخت سے بھی علاحدہ کرنا چاہتا ہے تاکہ ان کے ذریعے خطے میں اپنے منصوبوں کو نافذ کرسکے۔ ولایت فقیہ کے نظام کا دعوی ہے کہ وہ شیعوں کی نصرت کررہا ہے اور ان کو اپنے ملکوں میں مظلوم گمان کرکے ان کی تائید اور سپورٹ کررہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ "یقینا یہ ایک "باطل قول" ہے کیوں کہ ایرانی پاسداران انقلاب نے ہی سب سے پہلے ایرانی عوام کو جیل میں ڈالا، ان کو کچلا، موت کے گھاٹ اتارا اور ان کو ہتھکڑیاں اور بیڑیاں پہنائیں۔ یہاں ایک سوال یہ آتا ہے کہ خطے کے ممالک میں شیعوں کی صورت حال ولایت فقیہ کا نظام ظاہر ہونے سے پہلے اچھی اور بہتر تھی یا ظاہر ہونے کے بعد؟ اگر عراق کی موجودہ صورت حال پر ہی نظر ڈال لی جائے تو ہم دیکھتے ہیں کہ لاکھوں شیعہ منفی صورت حال اور بدترین معاشی اور امن و امان کے حالات کے خلاف احتجاج کے لیے مظاہروں میں نکل رہے ہیں۔ عراق کے شیعوں کو ایران عراق جنگ کے وقت پاسداران انقلاب کے کمانڈر محسن رضائی کے اس جملے کو نہیں بھولنا چاہیے جو وہ شیعہ افغانوں (جن کو بارودی سرنگوں پر گزرنے والی جماعتوں کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا) کے متعلق بولا کرتا تھا کہ یہ "صرف ایک مرتبہ استعمال ہونے والے فوجی ہیں۔"

لبنان میں حکومتی فیصلوں میں حزب اللہ کی مداخلت کا مقابلہ کرنے کے حوالے سے علامہ الحسینی نے کہا کہ یہ مقابلہ حزب اللہ سے نہیں بلکہ خود ولایت فقیہ کے نظام سے ہے۔ بالخصوص جب کہ حسن نصر اللہ واضح طور پر یہ کہہ چکا ہے کہ وہ ولی فقیہ کا ایک ادنی سپاہی ہے۔ تہران کے آشیرباد سے حزب اللہ لبنان کو خطے کے عرب ممالک سے کاٹنے کی تگ و دو میں مصروف ہے۔

حزب اللہ شام میں ایران کی نیابت کرتے ہوئے لڑ رہی ہے اور خطے میں اس کے ایجنڈے پرعمل درامد کروا رہی ہے۔ ایران کے ولایت فقیہ کے نظام کے لیے ممکن نہیں کہ وہ بڑی تعداد میں ایرانی عناصر کو لڑنے کے لیے شام کی جنگ میں جھونک دے اس لیے وہ پہلے درجے میں حزب اللہ پر، دوسرے درجے میں عراقی ملیشیاؤں پر اور تیسرے اور آخری درجے میں افغان اور دیگر ملیشیاؤں پر انحصار کررہا ہے۔