.

ایران کو رقوم منتقلی میں ملوث ترک تاجر امریکا میں گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی حکومت کو مبینہ طور پر غیرقانونی طریقے سے بیرون ملک سے رقوم کی منتقلی میں ملوث ایک ترک کاروباری شخصیت رضا زراب کو حال ہی میں امریکا میں گرفتار کیا گیا ہے۔ امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق مسٹر زراب کو ایک وفاقی جیل میں ڈالا گیا ہے اور پولیس اس سے تفتیش کررہی ہے۔

امریکی اخبار "وال اسٹریٹ جرنل" کے مطابق ایرانی نژاد ترک کاروباری شخصیت رضا ضراب کو گذشتہ بدھ کو عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ ایرانی نژاد ترک تاجر 33 سالہ رضا زراب کو امریکی پولیس نے مارچ میں امریکی ریاست فلوریڈا کے شہر میامی سے حراست میں لیا تھا۔ اس پر الزام ہے کہ وہ ایران پر عاید عالمی اقتصادی پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تہران کو غیر قانونی طریقے سے رقوم منتقل کرتا رہا ہے۔

امریکا کے مین ہٹن پراسیکیوٹر جنرل کی جانب سے رضا ضراب پر مذکورہ الزامات کے ساتھ ساتھ چار دیگر الزامات بھی عاید کیے ہیں۔ ان میں منی لانڈرنگ کی سازش اور ایک مقامی بنک کےساتھ فراڈ کا الزام بھی شامل ہے اور اگر یہ الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو زراب کو 75 برس قید کی سزا ہوسکتی ہے۔

خیال رہے کہ رضا زراب کو سنہ 2013ء میں ترکی میں حراست میں لیا گیا تھا۔ زراب کی گرفتاری اس وقت عمل میں لائی گئی تھی جب ذرائع ابلاغ نے ترک کابینہ میں شامل کئی وزراء کے ایران کے ساتھ مالی تعاون، رشوت ستانی اور بدعنوانی کے الزامات سامنے آئے تھے۔ اس وقت کے وزیراعظم رجب طیب ایردوآن نے وزراء کی کرپشن اور ایران کے ساتھ خفیہ مالی لین دین کی خبروں کے بعد اپنی کابینہ میں غیرمعمولی ردو بدل کیا تھا۔ اسی دوران یہ بھی معلوم ہوا تھا کہ کئی ترک وزراء کے رضا ضراب نامی ایک نوجوان ایرانی تاجر کے ساتھ بھی روابط ہیں اور وہ ایران کو اقتصادی پابندیوں کے اثرات کم کرنے کے لیے رقوم بھی مہیا کررہے ہیں۔

امریکی پراسیکیوشن حکام نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ وہ رضا زراب کو ضمانت پر رہا نہ کرے۔ کیونکہ خدشہ ہے کہ رہائی کی صورت میں وہ اپنے پیسے کی چمک دکھا کر یا سیاسی اثرو رسوخ استعمال کرتے ہوئے امریکا سے فرار ہوسکتا ہے۔

دوسری جانب رضا زراب کے وکیل نے گذشتہ ہفتے 50 ملین ڈالر ضمانت پر اپنے موکل کی رہائی کی درخواست دی تھی اور ساتھ ہی کہا تھا کہ رضا ضراب اپنا پاسپورٹ امریکی پولیس کو دینے اور چوبیس گھنٹے پولیس کی نگرانی میں رہنے کا پابند ہوگا۔ تاہم استغاثہ کا کہنا تھا کہ ملزم کافی اثرو رسوخ والا ہے اور وہ کسی اور ذریعے سے ملک سے فرار ہوسکتا ہے۔

امریکی پراسیکیوٹر جنرل کے مطابق رضا ضراب ایک بڑا تاجر ہے اور تجارتی منصوبوں سے وہ سالانہ 11 ارب ڈالر کی رقم کما رہا ہے۔ تاہم گرفتاری کے بعد زراب نے بتایا تھا کہ اس کی سالانہ آمدن 7 لاکھ 20 ہزار ڈالر ہے۔