.

سعودی معیشت میں اصلاحات کے قومی تبدیلی پلان کی منظوری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب نے تیل کی آمدن پر انحصار کم کرنے ،تیل کے بغیر محاصل میں تین گنا اضافے اور سرکاری محکموں میں آیندہ پانچ سال کے دوران تن خواہوں میں کمی کے اصلاحاتی منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔

سعودی وزراء نے جدہ میں ایک نیوزکانفرنس کے دوران قومی تبدیلی کے اس منصوبے (این ٹی پی) کے خدوخال بیان کیے ہیں اور کہا ہے کہ اس منصوبے کے تحت 2020ء تک غیر تیل آمدن کو بڑھا کر 530 ارب سعودی ریال (141 ارب سعودی ڈالرز) کیا جائے گا۔سرکاری کے علاوہ نجی شعبے میں روزگار کے ساڑھے چار لاکھ مواقع پیدا کیے جائیں گے۔

انھوں نے بتایا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد حکومت کی جانب سے مہیا کردہ خدمات کے معیار کو بہتر بنانا اور ایک خوش حال مستقبل اور پائیدار ترقی کا حصول ہے۔

این ٹی پی کی دستاویز کے مطابق اس میں پانچ سو سے زیادہ منصوبے اور اقدامات شامل ہیں۔اس کے علاوہ اس میں وزارتوں اور سرکاری ایجنسیوں کی کارکردگی کی جانچ کے لیے اشاریے بھی دیے گئے ہیں۔اس پر عمل درآمد کی لاگت قریباً 270 ارب ریال ہوگی۔

سعودی وزیر مملکت محمد آل الشیخ نے کہا ہے کہ اس لاگت کا بجٹ اخراجات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور توقع ہے کہ نجی شعبہ این ٹی پی کے مجوزہ اقدامات کے لیے مزید تین سو ارب ریال کی رقم دے گا۔

یہ پلان سعودی عرب کے نائب ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے اپریل میں اعلان کردہ ویژن 2030 کا حصہ ہے۔طویل المیعاد اور وسیع تر اصلاحات پر مبنی اس منصوبے کے تحت سعودی معیشت اور معاشرت کے بہت سے پہلوؤں کی تشکیل نو کی جائے گی اور سعودی معیشت کو تیل کے بجائے آمدن کے دوسرے ذرائع پر استوار کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ سعودی عرب کی معیشت کو 2014ء میں عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی کی وجہ سے خسارے کا سامنا ہے۔اس کے نتیجے میں گذشتہ سال اس کا بجٹ خسارہ ایک سو ارب ڈالرز کے لگ بھگ رہا تھا۔

وژن 2030 کے تحت حکومت کی جانب سے متعارف کردہ ویلیو ایڈڈ ٹیکس ،''گناہ ٹیکسوں'' اور نجی شعبے میں عاید کردہ فیسوں کی مد میں نئی آمدن کی توقع ہے۔حکومت نے تیل کی آمدن پر انحصار کم کرنے کے لیے ''میٹھے مشروبات'' اور تمباکو پر نئے ٹیکس لگائے ہیں۔

تاہم وزیر مملکت آل الشیخ نے واضح کیا ہے کہ شہریوں پر آمدن ٹیکس عاید کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔اصلاحاتی منصوبے کی دستاویز کے مطابق مکینوں پر پندرہ کروڑ ریال مالیت کے انکم ٹیکس عاید کرنے کی تجویز ہے۔یہ اصطلاح عام طور پر تارکین وطن کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔