یورپی یونین میں رہنا ہے یا نہیں،برطانیہ کی قسمت کا فیصلہ آج ہوگا
برطانیہ کے طویل عرصہ تک یورپی یونین کا حصہ رہنے کے بعد آج برطانوی عوام ایک نئے اور فیصلہ کن موڑ میں داخل ہوگئے ہیں۔ آج جمعرات کے روز ہونے والے ملک گیر ریفرینڈم میں انہیں برطانیہ کے مستقبل کا فیصلہ کرنا ہے کہ آیا ان کا ملک یورپی یونین کا حصہ رہے یا یونین سے الگ تھلگ اپنی الگ دنیا آباد کرے۔
اس سلسلے میں یورپی یونین کا حصہ رہنے کے حامی اور مخالف دونوں ہی ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔ کل بدھ کو ریفرینڈم کی مہم کے آخری روز سیاستدان عوام کو اپنی جانب مائل کرنے کے لیے بھرپور زور لگاتے رہے۔
برطانیہ کے یورپی یونین کا حصہ رہنے یا نہ رہنے کی مہم ’ڈیجیٹل جنگ‘ کی شکل اختیار کرچکی ہے۔ برطانوی عوام کا ’ہاں‘ یا ’ نا‘پر مہرلگانا نہ صرف برطانیہ کے مستقبل کا فیصلہ کرے گا بلکہ یونین میں شامل 23 ممالک کے مستقبل کا فیصلہ ہوگا۔ ریفرینڈم میں حمایت اور مخالفت کرنے والوں نے چھ کروڑ تیس لاکھ آبادی والے ملک کے ایک گھر تک اپنی آواز پہنچائی ہے۔
یورپی یونین میں برطانیہ کی شمولیت جنوری 1973ء میں ہوئی۔ اس سے قبل یونین میں چھ ملک فرانس، جرمنی، اٹلی، ہالینڈ، بیلجیم اور لکسمبرگ شامل تھے جو سنہ 1957ء سے یونین کے رکن چلے آ رہےہیں۔
برطانیہ میں یورپی یونین سے علاحدگی کی بحث کئی سال پہلے شروع ہوگئی تھی۔ سنہ 2007ء میں رائے عامہ کے جائزوں کے نگراں ادارے نے اس حوالے سے ایک سروے کا اہتمام کیا۔ اس سروے جائزے میں صرف ایک پوائنٹ کے فرق سے دونوں فریق آگے بڑھتے دکھائی دیتے ہیں۔ ’’Opinium Research‘‘ نے 41 ہزار فالورز میں سے 3000 سے رائے معلوم کی۔ یورپی یونین سے علاحدگی کے حامیوں کی تعداد 45 فی صد اور مخالفین کی تعداد 44 فی صد سامنے آئی تھی۔
اسی ادارے نےایک ہفتہ قبل اسی طرح کا ایک سروے کیا جس میں شریک 43 فی صد رائے دہندگان نے یورپی یونین میں شامل رہنے جب کہ 41 فی صد نے علاحدگی اختیار کرنے کی حمایت کی۔
گذشتہ ہفتے یورپی یونین سے علاحدگی کی حامی رکن پارلیمنٹ ’ جوکوکس‘ کی ہلاکت بھی رائے عامہ پر اپنے اثرات مرتب کیے ہیں۔ اگر جوکوکس کا قتل نہ ہوتا تو علاحدگی پسندوں کو زیادہ ووٹ ملنا تھے مگر قتل کی اس وحشیانہ کارروائی سے مقتولہ کے ساتھ عوامی ہمدردی کے جذبات میں اضافہ ہوا۔ ممکن ہے جوکوکس کا خون یورپی یونین سے علاحدگی کے مخالفین کو اپنے مشن میں کامیاب کرانے میں معاون ثابت ہو۔
-
برطانیہ: خاتون رکن پارلیمان قاتلانہ حملے میں ہلاک
برطانوی جماعتوں نے یورپی یونین ریفرینڈم پر مہمات ملتوی کردیں
بين الاقوامى -
برطانیہ : 42 % شہری یورپی یونین میں شامل رہنے کے حامی
برطانوی اخبار "دی ٹائمز" نے پیر کے روز بتایا ہے کہ حال ہی میں ہونے والے ...
بين الاقوامى -
یورپی یونین میں برطانیہ کو خصوصی درجہ، کیمرون پر امید
برطانیہ کے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے برطانیہ کو یورپی یونین میں شامل رکھنے کے لئے ...
بين الاقوامى