یمن : ڈرون حملے میں القاعدہ کے تین مشتبہ جنگجو ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن کے جنوبی صوبے شبوہ میں بغیر پائیلٹ جاسوس طیارے کے میزائل حملے میں القاعدہ کے تین مشتبہ جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔

یمنی حکام نے بتایا ہے کہ ڈرون نے ہفتے کے روز القاعدہ کے جنگجوؤں کی ایس یو وی گاڑی پر میزائل داغا تھا۔ مقامی قبائلیوں کے مطابق میزائل حملے میں ان کی گاڑی مکمل طور پر تباہ ہوگئی ہے۔انھوں نے ہلاک ہونے والے جنگجوؤں کی تعداد چھے بتائی ہے اور اس یقین کا اظہار کیا ہے کہ ایک امریکی ڈرون نے ان پر میزائل داغا تھا۔

واضح رہے کہ امریکا کے خفیہ ادارے سی آئی اے کے بارے ہی میں یہ یقین کیا جاتا ہے کہ یمن میں جزیرہ نما القاعدہ کے جنگجوؤں کے استیصال کے لیے اس کے بغیر پائیلٹ جاسوس طیارے میزائل حملے کررہے ہیں۔امریکا کا کہنا ہے کہ مختلف ممالک میں اس کا ڈرون پروگرام القاعدہ کے جنگجوؤں کے خاتمے میں کامیاب رہا ہے۔امریکی سی آئی اے یمن کے علاوہ پاکستان کے شمال مغربی پہاڑی علاقوں میں بھی القاعدہ اور طالبان جنگجوؤں کے خلاف ڈرون حملے کررہی ہے۔

اس میزائل حملے سے چندے قبل ہی وائٹ ہاؤس نے پہلی مرتبہ یہ انکشاف کیا ہے کہ سنہ 2009ء میں صدر براک اوباما کے عہدہ سنبھالنے کے بعد یمن سمیت مختلف ملکوں میں امریکا کے ڈرون اور دوسرے فضائی حملوں میں 116 شہری ہلاک ہوچکے ہیں۔

بعض یمنیوں کا کہنا ہے کہ اگر امریکا نے القاعدہ کے جنگجوؤں کے خلاف ڈرون حملے نہ کیے ہوتے تو وہ ملک کے مزید علاقوں پر قبضہ کر لیتے۔یمنی وزیرخارجہ ابوبکرالکربی نے چند ماہ قبل ایک انٹرویو میں اعتراف کیا تھا کہ ڈرون حملے ایک ''ناگزیر برائی''اور''بہت محدود معاشقہ'' ہیں جو یمنی حکومت کے ساتھ رابطے کے ذریعے کیے جارہے ہیں۔

تاہم بعض یمنیوں اور بعض امریکی سیاست دانوں کا کہنا ہے کہ ڈرون حملوں میں شہریوں کی ہلاکتوں سے جزیرہ نما عرب میں القاعدہ کے لیے ہمدردی کے جذبات پیدا ہورہے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ امریکا مخالف جذبات کو بھی انگیخت مل رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں