.

نیتن یاہو: کینیا میں قاتلانہ حملے سے متعلق رپورٹس کی تردید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے افریقی ملک کینیا میں خود پر قاتلانہ حملے سے متعلق رپورٹس کی تردید کردی ہے اور کہا ہے کہ وہ ایسے کسی حملے کے بارے میں کچھ نہیں جانتے ہیں۔

انھوں نے جمعرات کے روز ایتھوپیا کے وزیراعظم ہیل مریم دیسالین کے ساتھ ادیس ابابا میں نیوز کانفرنس میں کہا کہ وہ پہلی مرتبہ کینیا کے دورے میں خود پر قاتلانہ حملے کی کوشش سے متعلق رپورٹس کا سن رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ''ہم اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتے ہیں''۔اسرائیلی وزیراعظم نے یہ بات ایک رپورٹر کے سوال کے جواب میں کہی تھی۔قبل ازیں کویت سے شائع ہونے والے اخبار الجریدہ نے ایک بے نامی ذریعے کے حوالے سے یہ اطلاع دی تھی کہ کینیا میں نیتن یاہو پر قاتلانہ حملے کی سازش کی گئی تھی۔

لیکن کینیا کے حکام نے بھی نیتن یاہو کو قتل کرنے کی کسی سازش سے انکار کیا ہے۔کینیا کی وزارت داخلہ کے ترجمان میوندا نجوکا نے ایک بیان میں کہا کہ ''قاتلانہ حملے کی کوشش خفیہ نہیں رہ سکتی ہے۔جہاں تک میری معلومات کا تعلق ہےاس طرح کی کوئی بات نہیں ہوئی ہے''۔

کینیا کے انسپکٹر جنرل پولیس جوزف بوئننٹ نے بھی کہا ہے کہ '' میں اس سے آگاہ نہیں ہوں۔اس طرح کی کسی چیز کا درحقیقت کوئی وجود ہی نہیں ہے ۔ اس حوالے سے باتیں سب جھوٹ ہیں''۔

اسرائیلی وزارت خارجہ کے ترجمان عمانوایل نہشون نے بھی اس مبینہ قاتلانہ حملے کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ دھماکا خیز مواد کی وجہ سے وزیراعظم کے موٹرکیڈ کا راستہ تبدیل کرنے سے متعلق رپورٹ ہرگز بھی درست نہیں ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کے لیے اندرون اور بیرون ملک سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے جاتے ہیں کیونکہ دنیا بھر میں اسرائیلی اہداف کو خطرات لاحق ہیں۔یاد رہے کہ 1995ء میں ایک یہودی انتہا پسند نے سابق اسرائیلی وزیراعظم اضحاک رابن کو قتل کردیا تھا۔

نیتن یاہو نے چاروں افریقی ملکوں یوگنڈا ،کینیا ،روانڈا اور ایتھوپیا کا دورہ کیا ہے اور یہ کسی اسرائیلی وزیراعظم کا تیس سال کے بعد سب صحارا افریقہ کے ملکوں کا دورہ ہے۔اس کا مقصد افریقی ممالک کے ساتھ تعلقات کا فروغ ہے اور انھیں اس بات پر مائل کرنا ہے کہ وہ اقوام متحدہ میں فلسطینیوں کی جانب سے آزاد فلسطینی ریاست کے قیام سے متعلق کسی تحریک کی حمایت نہ کریں۔