.

عام معافی کے باوجود سیف اسلام قذافی لیبیا میں' تاحال قید'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کے سیکیورٹی ذرائع نے میڈیا میں شائع ہونے والی ان رپورٹس کی تردید کر دی ہے جن میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی تھی کہ ملک کے مقتول مرد آہن معمر القذافی کے زیر حراست بیٹے سیف الاسلام کو لیبیا میں عام معافی کے اعلان کے بعد رہا کر دیا گیا ہے۔ سیف الاسلام 2011ء میں اپنے والد کا تختہ الٹے جانے کے بعد سے مغربی لیبیا میں زیر حراست ہیں۔

معمر القذافی کی حکومت کے خلاف بغاوت کے مرکز زینتان میں ایک گروہ نے ملک پر تیس سال سے حکمران فوجی آمر کے اقتدار کو 2011 میں چیلنج کیا جس کے بعد لیبیا خانہ جنگی کا شکار ہوا جس نے کرنل قذافی کی جان لے لی اور ان کا خاندان بشمول بیٹے مختلف گروہوں کے ہاتھ اسیر بن گئے۔

زنتنان کے فوجی ذرائع نے خبر رساں ادارے 'رائیٹرز' کو بتایا "کہ ہم سیف الاسلام کی رہائی کی خبروں کی تردید کرتے ہیں۔"

لیبیا کی ایک عدالت نے سیف الاسلام کو ان کی غیر موجودگی میں سزائے موت سنائی تھی۔ ان پر 2011 کی بغاوت کے دوران اپنے والد کا اقتدار بچانے کی خاطر ہزاروں مظاہروں کو ہلاک کرنے کا الزام تھا۔

زنتنان میں سرگرم حکومت مخالف فورسز نے سیف اسلام کو کسی بھی دوسری قوت کے حوالے کرنے سے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا تھا کہ انہیں طرابلس حکومت کی اس یقین دہانی پر اعتبار نہیں کہ سیف الاسلام کو فرار نہیں ہونے دیا جائے گا، تاہم انہوں نے ویڈیو لنک کے ذریعے سیف الاسلام پر لیبیا ہی میں مقدمہ چلانے کی اجازت دی تھی۔

تین ماہ قبل اقوام متحدہ کی حمایت سے طرابلس میں بننے والی اتحادی حکومت اس بات کی کوشش کر رہی ہے کہ وہ لیبیا اور اس میں موجود تیل کے ذخائر کو کنٹرول کرنے کی کوششوں میں مصروف مختلف گروپوں کو متحد کر سکے۔

سیاسی حریفوں کی حمایت کرنے والے سابقہ باغیوں کے عسکری جتھے لیبیا میں اقتدار کی بساط کے اصل کھلاڑی ہیں جہاں اتحادی حکومت اپنا اثر ونفوذ قائم کرنے میں کوشاں ہے۔ اس افراتفری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انتہا پسند تنظیم 'داعش' نے بھی لیبیا میں اپنے قدم جما لئے ہیں۔