.

ایرانی سخت گیروں کی نیوکلیئر لوازمات خریدنے کی کوشش : جرمنی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جرمنی کی وزارت خارجہ نے باور کرایا ہے کہ ایران میں شدت پسند قوتیں نیوکلیئر ٹکنالوجی کے حصول کے لیے کوششیں کررہی ہیں اور تہران کے مغربی ممالک کے ساتھ طے پائے جانے والے نیوکلیئر معاہدے کو سبوتاژ کرنے پر کام کررہی ہیں۔

ایسا لگتا ہے کہ 2015 میں بیک وقت عالمی برادری کے ساتھ معاہدے اور نیوکلیئر معاہدے پر دستخطوں کے باوجود تہران میں شدت پسندوں پر سے نیوکلیئر ہتھیار بنانے کا بخار نہیں اترا ہے۔

نیوکلیئر ٹکنالوجی کی مارکیٹ میں ایران کی جانب سے تہران کے لیے ممنوعہ سازوسامان اور مواد کی خریداری کی درجنوں کوششیں کی جاچکی ہیں۔

جرمن وزارت خارجہ کے ترجمان مارٹن شیفر نے باور کرایا ہے کہ ایران میں بعض قوتیں نیوکلیئر معاہدے کے مخالف مواد کی خریداری کی کوششیں کررہی ہیں۔ شیفر کے مطابق یہ قوتیں ایرانی صدر حسن روحانی اور وزیر خارجہ کی پالیسیوں کو اپنے حلق میں کانٹے کے طور پر دیکھتی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ مغرب نیوکلیئر معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی کوششوں کی کڑی نگرانی کررہا ہے۔

انٹیلجنس رپورٹ نے خبردار کیا ہے کہ شدت پسند جن میں پاسداران انقلاب بھی ہیں ، اقتدار پر اپنا کنٹرول کھو دینے سے تشویش محسوس کررہے ہیں۔ اسی طرح مواد خریدنے کی ان کی کوششوں کا دُہرا استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس مواد کو پرامن مقاصد کے لیے اور فوجی مقاصد کے لیے بھی استعمال میں لایا جاسکتا ہے جس میں میزائل پروگرام سے متعلق امور شامل ہیں۔

رپورٹ میں تصدیق کی گئی ہے کہ ایران میں سخت گیروں کی جانب سے دستاویزات میں جعل سازی کی گئی ہے تاکہ یہ اشارہ دیا جاسکے کہ وہ جس ٹکنالوجی کو خریدنے کی کوشش کررہے ہیں وہ تیل اور گیس کے سیکٹروں میں استعمال ہوگی۔

جرمن چانسلر انجلا مرکل بے باور کرایا ہے کہ رواں سال ایران کی جانب سے بیلسٹک میزائل کا تجربہ ، اقوام متحدہ کی قرار داد کے ساتھ میل نہیں کھاتا جو تہران پر زور دیتی ہے کہ وہ 8 برس کے لیے نیوکلیئر ہتھیار لے جانے والے میزائلوں پر کام روک دے۔