بلغاریہ کی ایک خاتون کی ترک عہدیدار کو فحش تصاویر اور کلپس کے ذریعے بلیک میلنگ

ترک حکمران پارٹی ’آق‘ کے رہ نما محمد توپچو خاتون کے خلاف عدالت جا پہنچے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

عموما مردوں کی جانب سے خواتین کو ہراساں کرنے یا انہیں بلیک میل کرنے کی خبریں آتی رہتی ہیں مگر ایسی ایک خبر ترکیہ کے ایک اہم عہدیدار کے حوالے سے سامنے آئی ہے جنہوں نے ایک بلغارین خاتون پر فحش ویڈیوز اور تصاویر کے ذریعے بلیک میل کرنے کا الزام عاید کیا ہے۔ متاثرہ ترک حکومتی عہدیدار جن کی شناخت محمد توپچو کے نام سے کی گئی ہے، خاتون کی طرف سے مبینہ ہراسانی پر عدالت جا پہنچے ہیں۔

جمعہ کو ساحلی ریاست مارسین شہر ایردیملی کے میئر محمد توپچو جن کا تعلق حکمران جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی [آق] سے ہے، نے اس وقت عدلیہ کا سہارا لیا جب وہ بلغاریہ کی ایک خاتون کے ہاتھوں مبینہ طور پر بلیک میلنگ کا نشانہ بنے۔ انہوں نے خاتون پر الزام عاید کیا کہ خاتون نے جعلی اور من گھڑت فحش تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر شائع کر کے انہیں بلیک میل کرنے کی کوشش کی ہے۔

ترک وزیر اور بلغارین خاتون
ترک وزیر اور بلغارین خاتون

ساحلی ریاست مارسین کے ضلع ایردیملی کے میئر محمد توپچو نے ان تصاویر اور ویڈیوز کی صداقت پر سوال اٹھائے جن میں وہ بلغاریہ کی ایک خاتون کی جانب سے سوشل میڈیا پر شائع ہونے کے بعد سامنے آئے تھے۔ اس کے بعد انہوں نے ایک پریس کانفرنس میں رائے عامہ کے سامنے یہ دعویٰ کیا کہ یہ من گھڑت ہیں اور یہ کہ خاتون انہیں بلیک میل کرنا چاہتی تھیں۔

اگرچہ مقامی ترک میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ میئر نے بلغاریہ کی خاتون کو تین قسطوں میں 20,000 ترک لیرا (1,074 امریکی ڈالر کے برابر) بھیجے ہیں، لیکن ان کے میڈیا آفس نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کو اس بات کی تردید کی کہ توبتشو نے یہ رقم بلغاریائی خاتون کو منتقل کی تھی، جس نے یہ تصاویر اور ویڈیوز شائع کی تھی۔ان ویڈیو کلپس میں ان کے درمیان ہونے والی گفتگو بھی سنی جا سکتی ہے۔

ترکیہ کے میئر کے ساتھ ساتھ میڈیا نے بھی بلغاریہ کی خاتون کا پورا نام نہیں بتایا۔ سب نے اسے صرف آیدان ایس لکھا ہے جس پر توپتشو نے خود کو بدنام کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے خاتون کے خلاف مجرمانہ شکایات درج کرائی اور پریس کانفرنس میں تصاویر اور ویڈیوز کو "من گھڑت" اور "مصنوعی" جنسی مواد پر مبنی قرار دیا شامل ہے۔

توہین آمیز تصاویر اور ویڈیوز جن میں حکمران "جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ" پارٹی کے میئر نمودار ہوئے، ترکیہ میں حزب اختلاف کے مختلف ذرائع ابلاغ نے انہیں مزید نشر کیا ہے۔

میئر نے اعتراف کیا کہ وہ "بلیک میلنگ" کے جال میں پھنس گئے ہیں، لیکن انہوں نے اپوزیشن کے مختلف ذرائع ابلاغ کی طرف سے شائع ہونے والی تصاویر اور ویڈیوز کی صداقت کو تسلیم نہیں کیا، اپنی پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ غیر مناسب تصاویر اور ویڈیوز شائع کرنے کا مقصد ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانا ہے۔

توپچو نے اپنی حکمران جماعت میں اپنے حامیوں سے وعدہ کیا کہ وہ بلغاریہ کی خاتون کے خلاف درج کردہ مجرمانہ شکایت کے حوالے سے ہر نئی چیز کو ظاہر کریں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں