.

نسل پرستی میں بھارت پہلے اور ایران دوسرے نمبر پر

ایران میں اہل سنت مسلک کے مسلمان انتقامی سیاست کا شکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عرب ممالک میں ایران کی بلا جواز مداخلت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ شامی قوم کے خلاف مظالم ڈھانے میں صدر بشارالاسد کی مدد کرنا ہو یا عراق کا امن وامان تاراج کرنا ہو، ہر جگہ تہران کسی نا کسی شکل میں مداخلت کا مرتکب پایا جاتا ہے۔ ایران ایسے کیوں کرتا ہے تو ایک دستاویزی رپورٹ میں اس کا جواب یہ دیا گیا گیا ہے کہ ایران ایک نسل پرست ملک ہے جو اپنے مخصوص نسل پرستانہ مفادات کے حصول کے لیے دوسری اقوام کو قربانی کا بکرا بنا رہا ہے۔

العربیہ ٹی وی کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران پر نسل پرستی کے فروغ میں ملوث ہونے کا الزام کوئی من گھڑت کہانی یا افسانہ ہرگز نہیں بلکہ تہران کے نسل پرستی میں ملوث ہونے کے ٹھوس ثبوت موجود ہیں۔

ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نسل پرستی کے فروغ میں پہلے نمبر پربھارت اور دوسرے نمبر پر ایران ہے۔ سویڈین کے ماہرین نے نسل پرستی میں ملوث ہونے کے حوالے سے 80ملکوں کی ایک فہرست مرتب کی ہے۔ اس فہرت میں بھارت پہلے اور ایران دوسرے نمبر پر ہے۔

نسل پرستی میں ملوث ہونے کی فہرست میں ان ممالک کو شامل کیا گیا ہے جہاں ایک سے زاید اقوام آباد ہیں۔ ایران میں رہنے والے عرب باشندوں اور اہل سنت مسلک کے لوگوں کو انتقامی پالیسیوں کا سامنا ہے۔ ایران میں عرب شہری کل آبادی کی 10 فی صد نمائندگی کرتے ہیں۔ ایران کے عرب اکثریتی شہروں اور اہم مقامات کے عربی نام تبدیل کرتے ہوئے ان کے فارسی نام رکھے گئے ہیں۔ عرب شہریوں کو اعلیٰ تعلیم کے حق سے محروم رکھا جاتا ہے۔ فوج اور عدلیہ کے اعلیٰ عہدوں پر عرب شہریوں کا کوئی حق نہیں۔

جہاں تک مذہبی منافرت کا تعلق ہے تو اس باب میں بھی ایران دوسرے ممالک پر سبقت لے گیا ہے۔ ایران میں اہل سنت مسلک کے مسلمانوں کے خلاف سنہ 2011ء کے بعد انتقامی سیاست نے زور پکڑا اور گذشتہ چار برسوں میں 400 سنی مسلمانوں کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔

ایران میں اہل سنت مسلک کے مسلمانوں کی تعداد دو کروڑ بیس لاکھ سے زیادہ ہے۔ مگر سنی مسلمان ایرانی پارلیمنٹ کے رکن نہیں بن سکتے۔ تہران میں ایک بھی جامع مسجد نہیں۔ اہل سنت مسلک کی کتب کی فروخت پر بھی پابندی عاید ہے جو ایران کی مذہبی نسل پرستی کی بدترین شکل قرار دی جاتی ہے۔

ایران میں سرکاری سطح پرعرب شہریوں اور اہل سنت مسلک کے لوگوں کے خلاف باقاعدہ مہمات چلائی جاتی ہیں۔ سرکاری میڈیا بڑھ چڑھ کر ان مہمات میں حصہ لیتا ہے۔