.

انقلاب چُوکنے کے بعد ترک معیشت کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی میں رجب طیب ایردوآن کی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش نے ناکامی کا منہ دیکھنے کے باوجود ملک کی معیشت پر کاری ضرب لگائی ہے۔ اگرچہ کوشش ناکام ہوگئی تاہم سیاسی عدم یقینی کی صورت حال نے سرمایہ کاروں کے اندیشوں میں اضافہ کردیا ہے اور یہ ان کی سرمایہ کاری کے فیصلوں پر بھی اثر انداز ہوگی۔

جمعے کے روز استنبول اور انقرہ کی سڑکوں پر نکلنے والے باغی فوجیوں کے حالت انتشار کے مناظر کے سبب قومی کرنسی لیرہ کی قدر میں 5% کی کمی واقع ہوئی جو 2008ء کے بعد سب سے بڑی کمی ہے۔

کرنسی کمزور ہونے کے خطرات نے افراط زر کی شرح میں اضافہ کردیا۔ "فنانشل ٹائمز" اخبار کے مطابق اس دوران سیاسی منظرنامے کی عدم یقینی بیرونی سرماریہ کاری اور سیاحت کے لیے خطرہ بنے گی جس پر معیشت بہت زیادہ انحصار کرتی ہے۔

گلوبل سورس ادارے سے تعلق رکھنے والے اقتصادی مشیر مراد اوسر کا کہنا ہے کہ "یہ بہت خطرناک دھچکا ہے اور اس اب کا انحصار ترک کرنسی کی قدر پر پڑنے والے اثرات پر ہے"۔

انقلاب کی کوشش نے اقتصادی صورت حال کی ابتری میں اضافہ کردیا ہے جو پہلے ہی تقریبا ایک برس سے ابتری کا شکار ہے۔ اس دوران دو عام انتخابات کے علاوہ حملوں کی ایک خوف ناک لہر بھی دیکھی گئی جس کو داعش اور کرد جنگجوؤں سے منسوب کیا گیا۔

اس انقلابی کوشش سے قبل گزشتہ ماہ استنبول کے اتاترک ایئرپورٹ پر 3 خودکش حملہ آوروں نے دھاوا بولا جس کے نتیجے میں 40 سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ اس کارروائی نے سیاحت کے اہم سیکٹر کو نقصان پہنچایا تھا جو غیرملکی کرنسی کا براہ راست ذریعہ شمار کیا جاتا ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مئی کے مہینے میں سیاحت میں 23% کمی واقع ہوئی۔

ہارورڈ یونی ورسٹی میں ترک معیشت داں ڈینی روڈرک نے بتایا کہ "سرمایہ کار کے نقطہ نظر سے ترکی سیاسی الجھاؤ اور پیچیدگی کا مرکز بنتا جا رہا ہے"۔ انہوں نے مزید کہا کہ اقتصادی جھگڑے نے ایردوآن کو گزشتہ ہفتوں کے دوران روس اور اسرائیل سے مصالحت پر مجبور کردیا۔ تاہم مصالحت کے معاہدے کے بعد سیاحت کے شعبے میں ممکنہ منفعتوں کو سیاسی عدم استحکام کے سبب خطرے کا سامنا ہوگا۔

پینسلوینیا یونی ورسٹی میں مالیاتی علوم کے پروفیسر اور 1990 میں مرکزی بینک کے گورنر بولنٹ گولٹکین کا کہنا ہے کہ "یقینا اس وقت جس چیلنج کا سامنا ہے وہ ہے پیداوار بہتر کرنے کی ضرورت اور تعلیم کے شعبے میں طویل المدت سرمایہ کاری یا ایسی معیشت جس کو برآمدات چلائیں"۔

ترکی دنیا بھر میں ابھرتی ہوئی منڈیوں کی بہترین کارکردگی کا حامل ملک تھا۔ تاہم اس بات کی توقع تھی کہ شرح نمو واقعتا سست روی کا شکار ہو کر 2015ء کی 4.5% سے کم ہو کر رواں سال 4.3 % ہو جائے گی۔

ترکی بڑی حد تک ملک میں قصیر المدت غیر ملکی سرمایہ کاری کے بہاؤ پر انحصار کرتا ہے۔ وہ جاری حساب میں خسارے کے اضافے سے دوچار ہے۔