سعودی عرب کا ترکی میں حالات معمول پر آنے کا خیرمقدم
ترکی میں جمعہ کے روز فوج کے ایک گروپ کی جانب سے منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر ملک میں مارشل لاء نافذ کرنے کی کوشش ناکام بنائے جانے اور جلد از جلد حالات کو معمول پر لانے پر سعودی عرب نے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سعودی وزارت خارجہ کےایک عہدیدار نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ برادر مسلمان ملک ترکی میں گڑ بڑ کے بعد حالات کا معمول پر آنا خوش آئند ہے۔ ہم ترکی کے امن واستحکام کے حامی ہیں اور کسی صورت میں نہیں چاہتے کہ ترکی میں انارکی اور بدامنی پھیلے۔
سعودی پریس ایجنسی’واس‘ نے ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ ریاض حکومت کی طرف سے انقرہ میں حالات معمول پر آنے اور ریاستی امور کے صدر رجب طیب ایردوآن کے ہاتھ میں برقرار رہنے کا خیر مقدم کیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی حکومت کی طرف سے واضح کیا گیا ہے کہ وہ موجودہ حالات میں ترکی میں منتخب حکومت، آئینی دستوری نظام اور ترک عوام کے اجتماعی فیصلے کا احترام کرتا ہے۔
خیال رہے کہ جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب ترک فوج کے ایک گروپ نے حکومت کے خلاف علم بغاوت بلند کرنے کی کوشش کی تھی مگر ترک عوام نے سڑکوں پر نکل پر فوجی بغاوت کی سازش ناکام بنا دی تھی۔
-
ترک فوجی بغاوت سے امریکا کا کوئی تعلق نہیں: کیری
واشنگٹن پر'جھوٹے' الزامات سے دوطرفہ تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں
بين الاقوامى -
ترکی میں امن واستحکام کے خواہاں ہیں: امارات
متحدہ عرب امارات نے ترکی میں حالیہ فوجی بغاوت کی ناکامی کے بعد کہا ہے کہ ...
بين الاقوامى -
ترکی: فوجی بغاوت پر عالمی رہنمائوں کا ردعمل
عالمی رہنمائوں نے ترکی میں فوج کے ایک گروپ کی جانب سے مارشل لاء نافذ کرکے حکومت کا ...
بين الاقوامى