.

ارجنٹائن کی عدالت کا ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر کی گرفتاری کا مطالبہ

علی اکبر ولایتی پر یہودی مرکز میں دہشت گردانہ حملے میں ملوث ہونے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ارجنٹائن کی ایک عدالت نے ملائیشیا اور سنگا پور کے حکام سے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے مشیر علی اکبر ولایتی کی دہشت گردی کے الزامات کے تحت گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔عدالت کا کہنا ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر ان ملائیشیا اور سنگا پور کے دورے پر آ رہے ہیں۔ ان پر سنہ 1994ء میں پوینس آئرس میں ہونے والی دہشت گردی کی کارروائیوں کا الزام عاید کیا گیا ہے۔

خبر رساں اداروں کی رپورٹ کے مطابق ارجنٹائن کی عدالت کے ایک جج روڈولفو کانیکو پاکورال نے کہا ہے کہ انہیں یہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ علی اکبر ولایتی ملائیشیا اور سنگا پور کے دورے پر آ رہے ہیں، جہاں وہ مختلف تقاریب سے خطاب کریں گے۔ عدالت دونوں ملکوں سے پر زور مطالبہ کرتی ہے کہ وہ علی اکبر ولایتی کو گرفتار کریں کیونکہ ان کے خلاف سنہ 1994ء میں دہشت گردی میں ملوث ہونے کے الزامات عاید کیے گئے ہیں۔

خبر رساں ایجنسی ’’ایسوسی ایٹیڈ پریس‘‘ کی رپورٹ کے مطابق ارجنٹائن نے پوینس آئرس میں ایک یہودی مرکز میں سنہ 1994ء میں ہوئے دھماکوں میں ایران کے کئی سینیر عہدیداروں کو ملوث قرار دے کر انہیں اشتہاری قرار دے رکھا ہے۔ ان میں سابق وزیر دفاع احمد وحیدی، سابق صدر علی اکبر ہاشمی سمیت اٹھ عہدیدار شامل ہیں۔ ان دھماکوں میں 85 افراد ہلاک اور 300 زخمی ہو گئے تھے۔

گذشتہ برس ارجنٹائن کے پراسیکیوٹر جنرل گراڈو پولیسیٹا نے ملک کی خاتون صدر کریسٹینا کیچنر پر الزام عاید کیا تھا کہ وہ یہودی مرکز میں ہونے والی دہشت گردی میں ایرانی عہدیداروں کے ملوث ہونے کا معاملہ سردخانے میں ڈالنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

پولیسیٹا نے اپنے پیش رو البرٹو نیمسان جنہیں جنوری 2015ء کو ہلاک کردیا گیا تھا کے بارے میں کہا تھا کہ وہ یہودی مرکز پر دہشت گردانہ حملے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ انہوں نے الزام عاید کیا کہ صدر کریسٹیناکیچنر اور وزیرخارجہ ایکٹور ٹیمرمن ایرانی عہدیداروں کے خلاف تحقیقات روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔