.

ہر حکومت مخالف کو پھانسی کی توقع رکھنا چاہیے: ایرانی رکن پارلیمنٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی پارلیمنٹ میں سخت گیر بلاک سے تعلق رکھنے والے رکن محمد رضا باہنر کا کہنا ہے کہ نظام کے ہر مخالف کو موت کی سزا کی توقع رکھنا چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ "نظام کے اندر ایرانی انقلاب کے دشمن" موجود ہیں۔

باہنر نے جو پارلیمنٹ کے نائب اسپیکر بھی رہ چکے ہیں ایرانی ویب سائٹ "ندائے ایرانیان" سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ " جو کوئی بھی نظام کا مخالف ہے اور کسی بھی وجہ سے اس کے خلاف کام کر رہا ہے خواہ کسی نظریے کے حوالے سے یا اقتدار کی تلاش میں، اس کو چاہیے کہ وہ اپنے لیے موت کی سزا اور اسی قبیل کے دیگر امور کی توقع رکھے"۔

یہ بیان مرشد اعلی کے منصب کے لیے خمینی کے جانشیں آیت اللہ حسین علی منتظری کے آڈیو ٹیپ کے جاری ہونے کے بعد سامنے آیا ہے۔ اس ٹیپ میں منتظری اس خصوصی کمیٹی کے ارکان سے گفتگو کررہے ہیں جس نے 1988 کے موسم گرما میں مجاہدین خلق اور بائیں بازو کی تنظیموں کے ہزاروں قیدیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ اس آڈیو ریکارڈنگ کو بین الاقوامی عدالتوں میں ایران کے مُلائی نظام کی قیادت کے خلاف قانونی چارہ جوئی کے لیے ناقابل تردید دستاویز شمار کیا جا رہا ہے۔

اس آڈیو نے ایرانی حلقوں کے درمیان وسیع تنازع کھڑا کردیا ہے یہاں تک کہ ایرانی وزارت انٹیلجنس نے منتظری کے دفتر اور ان کے بیٹے پر دباؤ ڈالا ہے کہ اس ٹیپ کو فوری طور پر حذف کیا جائے۔

منتظری نے مذکورہ آڈیو فائل میں غیر منصفانہ عدالتی کارروائیوں اور اجتماعی پھانسیوں کی صورت میں انتقامی کارروائی کی مذمت کی۔ منتظری نے پھانسیوں کے ذمہ داروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ " یقینا تم لوگوں نے اسلامی جمہوریہ کی تاریخ کے سب سے بڑے جرم کا ارتکاب کیا ہے۔ تاریخ خمینی کو مجرم اور خون ریز شمار کرے گی"۔

اس موقت کے سبب خمینی کی جانب سے منتظری کو ان کے عہدے سے برطرف کردیا گیا تھا۔