انسانی ہاتھوں سے ان کہی کہانی… دلچسپ اور حیرت انگیز حقائق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 15 منٹ

انسانی ہاتھوں کی ترقی انسانی اصل کی سب سے اہم کہانیوں میں سے ایک ہے، لیکن اکثر نظر انداز کی جاتی ہے۔ اب نئےقدیم آثارِحیاتی شواہد اس کے مرکزی کردار کو واضح کر رہے ہیں۔

جیسا کہ "نیو سائنسٹسٹ" کی ویب سائٹ پر شائع رپورٹ میں بتایا گیا ہے، نئی دریافتوں کی بدولت آخرکار یہ ممکن ہو گیا ہے کہ ہم انسانی مہارت کی شاندار نشوونما اور اس کے دماغ کے حجم کی ترقی سے غیر متوقع تعلقات کی تصویر کشی کر سکیں۔

ہاتھوں میں فرق

سب سے قریبی زندہ رشتہ داروں یعنی چمپانزی (Chimpanzee)اور بن مانس(Bonobo) کے ہاتھوں کے مقابلے میں انسانی ہاتھ بہت غیر معمولی ہیں۔

کیری مونگل جو نیویارک کی اسٹونی بروک یونیورسٹی میں انسانی ارتقاء کی محقق ہیں، کہتی ہیں:انسانی ہاتھ کی نسبتیں بہت مختلف ہیں۔ انسانی ہاتھ میں انگوٹھا لمبا اور بہت مضبوط ہوتا ہے، جبکہ انگلیاں مختصر ہوتی ہیں۔

اس کے برعکس چمپانزی اور بن مانس کے ہاتھوں میں انگلیاں لمبی اور انگوٹھا مختصر اور باریک ہوتا ہے۔

مونگل کے مطابق انسانی انگلیوں کی ہڈیاں نسبتاً چھوٹی اور سیدھی ہیں، جبکہ چمپانزی کی ہڈیاں زیادہ مڑی ہوئی اور لمبی ہیں۔

یہ فرق انسانوں کے لیے اشیاء کو انگلیوں اور انگوٹھے کے درمیان پکڑنا آسان بناتا ہے، جو چمپانزی کے لیے مشکل ہے۔ یہ مہارت جسے ہم باریک گرفت کہتے ہیں، ہر چیز کے لیے بنیادی ہے،چاہے اوزار استعمال کرنا ہو یا دیگر مہارتیں، جیسے گٹار بجانا۔ انسانی انگوٹھا انتہائی لچکدار ہوتا ہے۔ مونگل کہتی ہیںانگوٹھا تقریباً ہر سمت میں حرکت کر سکتا ہے۔

ہاتھ کے عضلات

کودی برانگ جو میسوری کے سینٹ لوئس میں واشنگٹن یونیورسٹی کے قدیم انسانیات کے ماہر ہیں، کہتے ہیں:انسانوں کے ہاتھ کے عضلات بہت بڑے ہوتے ہیں۔ یہ باریک اور مضبوط گرفت پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

یہ بات طویل خم دینے والا انگوٹھے کا عضلہ (Flexor pollicis longus) بھی ظاہر کرتا ہے، جو انگوٹھے کی ہڈی سے منسلک ہوتا ہے، جبکہ چمپانزی میں یہ عضلہ اس حد تک نہیں پہنچتا۔

برانگ کے مطابق یہ عضلہ انگوٹھے کو باقی انگلیوں سے آزاد حرکت دینے کی صلاحیت فراہم کرتا ہے۔

انسان کی اصل

چارلس ڈارون نے اس بارے میں ابتدائی نظریہ پیش کیا تھا۔ اپنی کتاب "انسان کی اصل" (1871) میں انہوں نے کہا کہ انسانی ہاتھ کی مہارت اس وقت تک ترقی نہیں کر سکی، جب تک انسان دو پاوں پر کھڑا ہو کر چلنا شروع نہیں ہوا تھا:انسان اپنی موجودہ غلبہ والی پوزیشن میں نہ پہنچ پاتا اگر اس نے اپنے ہاتھ استعمال نہ کیے ہوتے… لیکن یہ مشکل ہے کہ ہاتھ اور بازو مکمل مہارت کے ساتھ ہتھیار بنانے یا پتھر اور نیزے درست پھینکنے کے قابل ہو جاتے، جب تک یہ عام طور پر جسم کا وزن اٹھانے یا حرکت کرنے کے لیے استعمال ہوتے یا جب تک یہ خاص طور پر درختوں پر چڑھنے کے لیے تیار نہ کیے گئے ہوں۔

انسان نما باقیات

یہ ایک شاندار خیال تھا، لیکن دہائیوں تک اس کی جانچ کرنے کا کوئی طریقہ نہیں تھا۔ برانگ کہتے ہیں:کافی عرصے تک فوسلز موجود نہیں تھے۔

انیسویں صدی میں انسان نما مخلوقات کی صرف چند باقیات ہی دریافت ہوئیں۔لیکن بیسویں صدی کے اوائل میں مشرقی افریقہ میں جو دریافت ہوئی، وہ ابتدائی انسان نما مخلوقات کے ہاتھ سے بنائی گئی پتھر کی اوزاریں تھیں۔

سب سے ابتدائی اوزارموٹے اور کھردرے پتھروں کے ٹکڑے، جو ایک پتھر سے دوسرے پتھر کو مار کر بنائے گئے۔تنسینیا کے اولڈوائی وادی (Olduvai Gorge) میں دریافت ہوئے، جہاں کی کھوجی ٹیم کی قیادت مشہور قدیم انسانیات کے ماہرین لوئس اور ماری لیکی کر رہے تھے۔یہ اوزار "پرانے انسان کے اوزار" کے نام سے جانے گئے۔
ان دریافتوں نے لیکی خاندان کو اس علاقے کی مزید کھوج کرنے پر آمادہ کیا، تاکہ وہ ان اوزار بنانے والوں تک پہنچ سکیں۔

ہنرمند انسان

1960 کی دہائی کے اوائل میں لیکی کی ٹیم نے ایک جزوی کھوپڑی کے ساتھ ہاتھ اور پیر کی ہڈیاں دریافت کیں۔ 1964 میں لوئس لیکی اور ان کے ساتھیوں نے اعلان کیا کہ یہ ایک نئے نوع ہومو ہابیلس (Homo habilis) سے تعلق رکھتی ہیں، جو انسانی جنس Homo کا ابتدائی رکن ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ انسان نما مخلوق ممکنہ طور پر پرانے انسان کے اوزار بنانے والے تھے۔

مضبوط ہڈیاں اور مڑی ہوئی انگلیاں

ٹریسی کیویل جو جرمنی کے لائپزگ میں میکس پلانک انسٹیٹیوٹ برائے ارتقائی انسانیات کی محقق ہیں، کہتی ہیں:یہ ایک عجیب ارتقاء ہے، کیونکہ یہ انسانی ہاتھ سے مشابہ نہیں لگتا۔ ہاتھ کی ہڈیاں بہت مضبوط ہیں اور انگلیاں ابھی بھی مڑی ہوئی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان میں ایسی کوئی خاص خصوصیت نہیں جو یہ ظاہر کرے کہ یہ ہاتھ بہت ماہر ہیں۔ یہ زیادہ تر ایک بندر کے ہاتھ کی طرح لگتے ہیں۔

اگلی نصف صدی میں کئی حیرت انگیز فوسلز دریافت ہوئے۔ ان میں لوسی شامل ہے، جو Australopithecus afarensis نامی قدیم انسانی نوع کی جزوی ہڈیوں پر مشتمل ہے اور اس کی عمر تقریباً 3اعشاریہ2 ملین سال پرانی ہے۔

اسی کے ساتھ کئی مثالیں Paranthropus کی بھی ملیں: یہ انسان نما مخلوق تھی جس کے چہرے چپٹے اور دانت بڑے تھے اور یہ ابتدائی انسان کے ساتھ تقریباً 2اعشاریہ8 سے 1اعشاریہ4 ملین سال پہلے ایک ساتھ رہتی تھی۔

ایتھوپیا سے فوسلز

تاہم ہاتھ کی ہڈیاں اب بھی نایاب تھیں۔ کیویل کہتی ہیں:لوسی کے ہاتھ میں صرف دو ہڈیاں موجود تھیں، ایک انگوٹھے کی ہڈی اور کلائی کا ایک حصہ۔

2003 میں محققین نے Australopithecus afarensis کے ہاتھ کو "مرکب ہاتھ" کے طور پر دوبارہ تشکیل دیا، جو ہادار، ایتھوپیا میں دریافت ہونے والے فوسلز کو ملا کر بنایا گیا تھا۔ اس سے پتہ چلا کہ ان کے ہاتھ انسان کے ہاتھوں سے کافی حد تک ملتے جلتے تھے، یعنی لمبا انگوٹھا اور چھوٹی انگلیاں۔

تاہمہاتھ کو اس طرح سے دوبارہ ترتیب دینے کی حقیقت نے اسے دوبارہ تشریح کے قابل بنایا۔ بعض محققین نے دلیل دی کہ Australopithecus afarensis کے ہاتھ گوریلا اور انسان کے درمیان درمیانی تھے اور یہ انسانی ہاتھوں کی طرح باریک گرفت بنانے کی صلاحیت نہیں رکھتے تھے۔ اس بنیاد پر ابتدائی دور میں پتھر کے اوزاروں کے کوئی شواہد نہیں ملے۔

انسانی ارتقاء

ہاتھوں کی کمی کا مسئلہ بیسویں صدی کے آغاز میں مزید پیچیدہ ہو گیا، جب انسان نما مخلوقات کے فوسلز بہت قدیم دور تک پہنچ گئے۔Sahelanthropus tchadensis کی عمر تقریباً سات ملین سال تخمینہ کی گئی۔Orrorin tugenensis کی عمر تقریباً چھ ملین سال تھی۔

یہ تمام معلومات اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ انسانی ارتقاء کی کہانی تقریباً سات ملین سال پر محیط ہے، تاہم ہاتھوں کے فوسلز بہت کم ہی ملے ہیں۔

2009 میں Ardi یعنی Ardipithecus ramidus کی شناخت ہوئی جو تقریباً 4اعشاریہ4 ملین سال قبل زندہ تھا۔ اس کی دریافت نے انسانی ارتقاء کے فہم کو بدل کر رکھ دیا۔

محققین کا کہنا ہے کہ Ardipithecus ramidus سیدھا چل سکتا تھا۔ اگرچہ یہ جنگلی ماحول میں رہتا تھا، مگر یہ اس حد تک نہیں بنا تھا کہ شاخوں سے لٹکنے یا چڑھنے جیسی عادات اختیار کرے، جیسا کہ چمپانزی اور دیگر بڑے بندر کرتے ہیں۔

ڈارون کے خیال کے برعکس

مزید پیچیدگی یہ ہے کہ Sahelanthropus اور Orrorin دونوں میں ایسے خصائص موجود تھے جو ظاہر کرتے ہیں کہ یہ سیدھا چل سکتے تھےاور یہ بھی پتھر کے قدیم اوزاروں کے سب سے پرانے شواہد سے لاکھوں سال پہلے کی بات ہے۔

یہ رائے چارلس ڈارون کے اصل خیال سے متصادم ہے، جس کے مطابق انسان کے دو پاوں پر چلنے نے ہی ہاتھوں کو آزاد کر کے انہیں زیادہ ماہر بنایا۔

دوہری حرکت رکھنے والا انسان

2008 میں جنوبی افریقہ کی ایک غار سے Australopithecus sediba کے باقیات دریافت ہوئے۔ ان کی عمر تقریباً دو ملین سال تخمینہ کی گئی ہے۔ یہ مخلوق دوہری حرکت (bipedal) رکھتی تھی، لیکن اس میں Australopithecus اور Homo کے خصائص کا عجیب امتزاج موجود تھا۔

ان باقیات میں ایک بالغ خاتون کی تقریباً مکمل کلائی اور ہاتھ شامل تھے، جس کا تجزیہ کیویل نے کیا۔Australopithecus sediba کے ہاتھ میں لمبا انگوٹھا اور چھوٹی انگلیاں تھیں، جیسے Homo میں، لیکن ساتھ ہی کچھ بندر نما خصوصیات بھی موجود تھیں، جو درختوں پر چڑھنے کے لیے موزوں تھیں۔

عجیب امتزاج

پانچ سال بعد یہی سلسلہ دوبارہ دہرایا گیا جب جنوبی افریقہ کی ایک اور غار سے Homo naledi دریافت ہوا۔ تاہم اس بار یہ تقریباً 300 ہزار سال پرانا تھا۔ اسے انسانی جنس میں شامل کیا گیا، لیکن Homo naledi میں Australopithecus اور Homo کے خصائص کا عجیب امتزاج موجود تھا۔ان کا انگوٹھا لمبا اور بڑا تھا، جیسے انسان کے ہاتھ میں ہوتا ہے اور کلائی بھی انسانی کلائی سے مشابہت رکھتی تھی، لیکن انگلیوں کی ہڈیاں لمبی اور مڑی ہوئی تھیں، جیسے درختوں پر چڑھنے والے بندر کی ہوتی ہیں۔

کیویل کے مطابق:ابتدائی انسان نما مخلوقات کے ہاتھ دو مختلف حیاتیاتی کردار ادا کرتے تھے، ایک حرکت کے لیے اور دوسرا ہاتھ کی مہارت کے لیے۔

مسلسل حیرتیں

یہ حیرت انگیز دریافتیں یہاں ختم نہیں ہوئیں۔ 2015 میں ایک دہائی سے زیادہ کے بعد یہ حیرتیں واضح ہونے لگیں۔

کینیا کے لیک ٹورکانا کے مغربی کنارے لومیکوئی میں سونیا ہارمینڈ (اسٹونی بروک یونیورسٹی) اور ان کے ساتھیوں نے سب سے قدیم پتھر کے اوزار دریافت کیے، جن کی عمر تقریباً 3اعشاریہ3 ملین سال تھی۔ اس سے پہلے سب سے پرانے اوزار اولڈوان اوزار تھے، جن کی عمر 2اعشاریہ6 ملین سال تھی۔

لومیکوئی کے آثار قدیمہ کے اوزار ابتدائی نوعیت کے تھے،عام آنکھ سے پہچاننا مشکل تھا۔

تھامس بلامر نیو یارک سٹی یونیورسٹی کے قدیم انسانیات کے ماہر کہتے ہیں:زیادہ تر کام بس یہ تھا کہ ایک بڑی پتھر کی ٹکڑی کو دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر زمین پر رکھنا اور اسے توڑ دینا۔

اس میں لازمی طور پر باریک گرفت کی ضرورت نہیں تھی۔ یہ بھی واضح نہیں کہ یہ اوزار کس مقصد کے لیے استعمال ہوتے تھے۔ تاہم کھانا تیار کرنے یا شاید شکار کے گوشت کو کاٹنے کے لیے استعمال کیے جانے کا قیاس ایک معقول اندازہ ہے۔

پتھر کے اوزار بنانا

لومیکوئی کے اوزاروں کی اہمیت اس میں ہے کہ یہ کسی بھی فوسل سے قدیم ہیں ،جو انسانی جنس سے منسوب کیے گئے ہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان نما مخلوقات انسان کے ساتھ پتھر کے اوزار بنانے کے قابل تھے۔

اسی سال کیویل اور ان کے ساتھیوں نے Australopithecus کے ہاتھ کی ہڈیوں کے اندرونی ڈھانچے کا معائنہ کیا۔

انہوں نے ہاتھ کی ہتھیلی کی ہڈیوں میں جالی نما ساخت دریافت کی، جو عام طور پر باریک گرفت کے لیے انگوٹھے اور انگلیوں کے استعمال کے دوران دیکھی جاتی ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ Australopithecus پتھر کے اوزار استعمال کرنے میں ماہر تھے۔

شاخوں پر جھولنا

اسی دوران برانگ نے Ardipithecus کے ہاتھ کی ہڈیوں کا دوبارہ جائزہ لینا شروع کیا، جنہیں وائٹ اور ان کے ساتھیوں نے کہا تھا کہ یہ زندہ بڑے بندروں کی ہڈیوں سے بالکل مختلف ہیں۔

برانگ کہتے ہیں: میں بالکل حیران رہ گیا کہ Ardipithecus بندر سے کس قدر مشابہت رکھتا ہے۔

2021 میں انہوں نے ایک تحقیق شائع کی جس میں ہاتھ کی ہڈیوں کا نیا تجزیہ کیا گیا اور انہیں موجودہ بندروں اور معدوم انسان نما مخلوقات کی ہڈیوں سے موازنہ کیا گیا۔

برانگ کے مطابقArdipithecus سب سے زیادہ چمپانزی، گوریلا اور بونو بوس کے قریب ہے۔Ardipithecus خاص طور پر شاخوں پر جھولنے کے لیے تیار تھا، جیسے چمپانزی جبکہ وائٹ کی ٹیم کا دعویٰ تھا کہ یہ اس کے لیے مناسب نہیں تھا، اگرچہ اس رائے پر اتفاق نہیں پایا جاتا۔

سیدھا چلنا بمقابلہ درختوں پر چڑھنا

کہانی واضح ہونا شروع ہو گئی ہے۔ ابتدائی انسان نما مخلوقات نے سیدھا چلنا شروع کیا، لیکن حتیٰ کہ بعد کے زمانے میں بھی، جیسے Ardipithecus میں وہ درختوں پر زیادہ چڑھتے رہتے تھے، اس لیے ان کے ہاتھ زیادہ نہیں بدلے۔صرف جب Australopithecus نمودار ہوئے، جو زمین پر زیادہ وقت گزارتے تھے، ان کے ہاتھوں میں تبدیلی آئی۔ یہ تبدیلی سب سے قدیم پتھر کے اوزار لومیکوئیان اوزاروں کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔

سب سے بڑی ارتقائی چھلانگ

برانگ کے مطابق سب سے بڑی ارتقائی چھلانگ Ardipithecus سے بعد کے گروہوں جیسے Australopithecus اور انسان تک دیکھی گئی۔


برانگ کہتے ہیں:Ardipithecus ہاتھ کے شکل اور جسم کے دیگر حصوں میں ان نسلوں سے بالکل مختلف ہے۔

زبردست طاقت

اکتوبر 2025 میں ایک آخری قدیم آثارِحیاتی دریافت مکمل ہوئی، جب مونگل اور برانگ نے Paranthropus boisei کا پہلا ہاتھ دریافت کیا، جو لیک ٹورکانا کے قریب ملا۔اس ہاتھ میں انگوٹھے اور انگلیوں کی نسبت انسانی ہاتھ جیسی تھی، لیکن ہڈیاں سب بڑی تھیں۔

اس سے پتہ چلتا ہے کہ Paranthropus انسانی مہارت رکھتا تھا، لیکن اس کی طاقت اتنی زیادہ تھی کہ گوریلا کے برابر تھی۔ شاید یہی انہیں سخت لکڑی والے پودے پھاڑنے میں مدد دیتا تھا اور ممکن ہے کہ اسی طاقت نے انہیں پتھر کے اوزار بنانے اور استعمال کرنے کے قابل بنایا ہو۔

2023 میں بلامر اور ان کے ساتھیوں نے رپورٹ کیا کہ Oldowan اوزار جن کی عمر تقریباً 2اعشاریہ6 ملین سال ہے، Paranthropus کے فوسلز کے ساتھ دریافت ہوئے۔

تدریجی ارتقاء

ممکن ہے کہ Paranthropus انسان کے آباواجداد نہ ہوں، بلکہ انسانی جنس کے قریب ایک ساتھی گروہ ہوں۔ اسی وجہ سے Paranthropus کے ہاتھ کی موجودگی نے مونگل کی ٹیم کو یہ سمجھنے میں مدد دی کہ ہاتھ کا شکل کس طرح تبدیل ہوا۔

گزشتہ سات ملین سالوں میں انسان نما مخلوقات کے ارتقاء کے دوران یہ تبدیلیاں تدریجی رہی ہیں۔

مونگل کے مطابق:Ardipithecus سے لے کر Australopithecus تک انگوٹھے کی لمبائی انگلیوں کے مقابلے میں بڑھ گئی اور موٹائی میں اضافہ ہوا۔ یہ دونوں تبدیلیاں باریک گرفت میں مددگار ثابت ہوئیں۔

تاہم انگلیاں ابھی بھی مڑی ہوئی رہیں، جیسے بندر کی انگلیاں اور انگوٹھا نسبتا پتلا رہا۔ یہ ہاتھ پر ارتقائی دباؤ میں تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے: Ardipithecus کے لیے ہاتھ بنیادی طور پر حرکت کے لیے استعمال ہوتے تھے، جبکہ Australopithecus کے لیے اوزار استعمال کرنا غالباً زیادہ اہم تھا۔

شکار اور گوشت کا استعمال

آخر کار ابتدائی انسان نے ابتدائی انسان نما مخلوقات کے مقابلے میں گوشت کی بہت زیادہ مقدار استعمال کرنا شروع کی۔جانوروں کا شکار اور ذبح کرنے کے لیے مزید ترقی یافتہ پتھر کے اوزار بنانے اور استعمال کرنے کی ضرورت تھی۔ مونگل کا خیال ہے کہ یہی عوامل ہاتھ کی ارتقائی ترقی کے آخری مراحل کو متاثر کرتے رہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں