برما میں سیلاب سے 6 لاکھ افراد متاثر،مسلمان مزید مفلوک الحال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

برما [میانمار] میں حالیہ سیلاب نے پورے ملک میں تباہی پھیلا دی ہے جس کے نتیجے میں کم سے کم 6 لاکھ افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔ بے گھر ہونے والوں میں وہاں کے مسلمانوں کی بڑی تعداد بھی شامل ہے جو پہلے ہی بدھ دہشت گردوں کی انتقامی کارروائیوں کا سامنا کررہے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق میانمار کی وزارت سماجی بہبود کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ حالیہ ہفتوں کےدوران طوفانی بارشوں اور سیلاب سے چھ لاکے افراد بے گھر ہوئے ہیں۔ سیلاب کے نتیجے میں آٹھ فراد ہلاک بھی ہوچکے ہیں۔ سیلاب سے ملک کا جنوبی علاقہ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ بارشوں اور اس کے نتیجے میں آنے والے سیلاب کا سلسلہ بدستور جاری ہے جس کے نتیجے میں نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ اگرچہ دریائے’ایایوادی‘ میں پانی کی مقدار کم ہو رہی ہے مگر مسلسل بارشوں کے باعث اب بھی کئی علاقے زیر آب ہیں۔

خیال رہے کہ برما میں جولائی کے اوائل میں بارشوں کا سلسلہ شروع ہوا تھا جس کے نتیجے میں مسلمان اکثریتی علاقہ روھینگیا اور مغربی ریاست راخین سب سے زیادہ متاثر ہوئے تھے اور حکومت نے چار اسکول بند کردیے تھے۔

سیلاب کے باعث روھینگیا کے مسلمانوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ ہزاروں مسلمان خاندان کھلے آسمان تلے زندگی گذارنے پرمجبور ہیں۔ برما حکومت کی طرف سے امدادی آپریشن صرف بدھ مذہب کے پیروکاروں کے لیے شروع کیا گیا جس میں مسلمانوں کو دانستہ طورپر نظرانداز کیا جا رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں