.

عربی زبان سعودی عرب کے سامنے ایرانی شکست کا موجب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی ذرائع ابلاغ نے تسلیم کیا ہے کہ عرب خطے میں بولی اور سمجھی جانے والی عربی زبان ایران کی سعودی عرب کے سامنے شکست کا ایک بڑا سبب ہے۔

ایرانی پاسداران انقلاب کے مقرب نیوز ویب پورٹل’’تاب ناک‘‘ نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ ایران کے سوا خطے کے تمام ملکوں میں عربی بولی اور سمجھی جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایران سعودی عرب کے سامنے شکست سے دوچار ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق فارسی ویب سائیٹ پر ایک رپورٹ شائع کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ایران اس وقت سعودی عرب کے خلاف ابلاغی جنگ میں داخل ہوگیا تھا جب خطے کے ممالک نے عربی زبان کو اختیار کیا تھا۔ خطے کے لوگ عربی جانتے ہیں وہ فارسی سے ناواقف ہیں جب کہ ایران میں عربی نہیں سمجھی جاتی۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ایران کے تمام سفارت کار عربی نہیں سمجھتے۔ جب انہیں عرب دنیا کے مختلف سیاسی مناظر دکھائے جانے کے بعد ان سے سوالات پوچھے جاتے ہیں تو وہ لاعلمی کا اظہار کرتے ہیں۔ یوں ہمارے سفیر عرب دنیا کی سیاست سے نابلد رہتے ہیں۔ ہمیں معلوم ہی نہیں کہ ہم ایک پسماندہ جزیرے میں رہتے ہیں اور ہمارے پڑوسی عرب تیزی کے ساتھ ترقی کررہے ہیں۔

اگرچہ ایران کی سرکاری اور نیم سرکاری خبر رساں ایجنسیوں بالخصوص فارس نیوز، مہر، تسنیم اور دیگر کے ہاں فرقہ واریت کے فروغ کے لیے عربی صفحات بھی بنائے گئے ہیں مگر ان کا مقصد عرب ممالک کے خلاف منفی پروپیگنڈے کے اور کچھ نہیں ہوتا۔ ایران اور سعودی عرب کے درمیان سفارتی تعلقات کے تعطل کے بعد دونوں ملکوں میں ابلاغی محاذ پر جنگ بھی شدت اختیار کرچکی ہے۔

ایران نے عرب ممالک کے خلاف منفی پروپیگنڈے کے لیے کئی نشریاتی اور اشاعتی ادارے بھی چلا رہے ہیں۔ ان میں عربی زبان میں نشریات پیش کرنے والے ایرانی ٹی وی ’’العالم‘‘ کا تذکرہ اکثر اخبارات میں آتا رہتا ہے۔ حقائق کو مسخ کرکے پیش کرنے میں العالم ٹی وی ایران کی بھرپور ترجمانی کررہا ہے۔ تاہم ایران میں اس ٹی وی چینل کی نشریات کم ہی دیکھی جاتی ہیں۔