.

’اوباما نائن الیون حملوں سے متعلق ہرجانے کا قانون ویٹو کریں گے‘

ہرجانے کا متنازع بل امریکیوں کو عالمی عدالتوں میں گھسیٹنے کا ذریعہ بنے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی کانگریس کی جانب سے گیارہ ستمبر 2001ء کو امریکا میں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں میں تعاون پر دوسرے ملکوں کے خلاف ہرجانے کے نئے بل پرامریکی انتظامیہ میں بھی تشویش پائی جا رہی ہے۔ اگرچہ کانگریس نے ایک ایسا ہی متنازع بل منظور کرنے کی کوششیں شروع کی ہیں جس کے تحت نائن الیون کے حملوں میں کسی نا کسی شکل میں ملوث ہونے پر دوسرے ملکوں سے ہرجانے کی ادائی کا مطالبہ کیا جاسکے گا تاہم وائیٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ صدر براک اوباما اس طرح کے کسی بھی بل کو دو طرفہ سفارتی اور ریاستوں کے مابین باہمی تعلقات کے حوالے سے نقصان دہ سمجھتے ہیں اور وہ اس بل کو ویٹو کردیں گے۔

وائیٹ ہاؤس کے ترجمان جوش ارنسٹ نے ایک بیان میں کہا کہ ’ایسے کسی قانون کا تصور بھی محال ہے جس کے نتیجے میں دوسرے ممالک اور حکومتیں امریکی سفارت کاروں، فوجیوں اور امریکی کمپنیوں کو بین الاقوامی عدالتوں میں گھسیٹنے کی کوشش کریں‘۔ ترجمان نے کہا کہ توقع ہے کہ صدر باراک اوباما کانگریس کے مذکورہ بل کو ویٹو کردیں گے۔