.

کیا امریکا خامنہ ای کی دولت کو ظاہر کر دے گا ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی کانگریس ان دنوں ایک قانونی بل پیش کرنے کے سلسلے میں کام کر رہی ہے جس کے ذریعے ایران کے مرشد اعلی علی خامنہ ای اور ایرانی نظام اور پاسداران انقلاب کی قیادت میں شامل 80 افراد کے مالی اثاثوں کو ظاہر کیا جاسکے۔ واضح رہے کہ وہائٹ ہاؤس کی جانب سے یہ دھمکی دی گئی ہے کہ بل کے منظور ہونے کی صورت میں بھی وہ اس کو ویٹو کرے گا۔

امریکی کانگریس کے ایوان زیریں میں مالی امور کی کمیٹی کی جانب سے مذکورہ قانون کا بل پیش کیا گیا۔ اس سلسلے میں 39 ارکان نے بل کے لیے موافقت اور 20 نے مخالفت کا اظہار کیا۔ وائس آف امریکا کے مطابق اس بل کو امریکی حکومت کے لیے لازمی قانون بنانے کے سلسلے میں رائے شماری کے واسطے پیش کیا جائے گا۔

قانون کا متن امریکی حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ ایران میں بعض بڑے رہ نماؤں کے تمام اثاثوں کو اعلانیہ طور پر ظاہر کیا جائے اور یہ بھی بتایا جائے کہ انہوں نے یہ اثاثے کس طرح حاصل کیے اور ان کو کس طرح استعمال میں لایا جا رہا ہے۔

قانون کے منظور ہونے کی صورت میں وزارت خزانہ اس بات کی پابند ہوگی کہ وہ 9 ماہ کے اندر ایران کی چند اہم شخصیات کے تمام منقولہ و غیر منقولہ اثاثوں کے بارے میں ایک جامع رپورٹ تیار کرے۔ ان شخصیات میں ایرانی مرشد اعلی علی خامنہ ای ، صدر حسن روحانی ، شوری نگہبان کے ارکان (12 افراد) اور مجلس تشخیص مصلحت نظام کے ارکان کے علاوہ وزیر انٹیلجنس ، پاسداران انقلاب کی انٹیلجنس کا سربراہ اور پاسداران انقلاب کے سینئر قائدین مثلا دہشت گرد تنظیم فیلق القدس کا کمانڈر قاسم سلیمانی وغیر شامل ہیں۔

کانگریس کو رپورٹ سے آگاہ کرنے کے بعد اسے امریکی وزارت خزانہ کی ویب سائٹ پر انگریزی ، فارسی ، عربی اور آذری زبانوں میں پوسٹ کیا جائے گا۔

امریکی کانگریس میں مالی امور کی کمیٹی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ " ایران میں سیاسی اور عسکری قائدین ، سکیورٹی اور سرکاری اداروں اور پاسداران انقلاب نے بدعنوانی اور غبن کے راستے بہت بڑی رقم حاصل کی۔ اس دوران ریاستی اداروں میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی کا بازار گرم کیا گیا۔ یہ امر اس بات کا طالب ہے کہ ان لوگوں کے تمام اثاثوں ، ان کے حصول اور استعمال کا طریقہ کار اعلانیہ طور پر منظرعام پر لایا جائے"۔

دوسری جانب وہائٹ ہاؤس نے ایک بیان میں دھمکی دی ہے کہ کانگریس کی جانب سے اس قانون کو منظور کیے جانے کی صورت میں صدر باراک اوباما اس کے خلاف اپنا ویٹو کا حق استعمال کریں گے۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا ہے کہ مذکورہ قانون سے دہشت گردی کو مالی رقوم کی فراہمی اور منی لانڈرنگ کسی طور نہیں رکے گی بلکہ اس قانون کی زد میں آنے والی شخصیات اپنے مالی معاملات کی شفافیت کو مزید کم کر دیں گی جس سے ایران میں بینکنگ سیکٹر میں معاملات کی شفافیت کے حوالے سے بے چینی پیدا ہوسکتی ہے۔

بیان میں زور دے کر کہا گیا ہے کہ اس نوعیت کی معلومات ظاہر کرنے سے ہمارے انٹیلجنس ذرائع اور طریقہ کار کو خطرہ ہوسکتا ہے۔ وہائٹ ہاؤس کی نظر میں مذکورہ قانون کا بل "اس سفارتی معاہدے کی روح کو مؤثر کرے گا جس کا مقصد پر امن اور یقینی طور پر ایران کو ایٹمی ہتھیاروں کے حصول سے روکنا ہے"۔