روس کا امریکا کو شامی حکومت اور مسلح افواج پر حملے پر انتباہ
شامی رجیم کے خلاف براہ راست جارحیت سے پورے مشرقِ وسطیٰ پر منفی اثرات مرتب ہوں گے
روسی وزارت خارجہ کی خاتون ترجمان نے خبردار کیا ہے کہ امریکا نے شامی حکومت اور اس کی مسلح افواج کے خلاف براہ راست جارحیت کی تو اس سے پورے مشرق وسطیٰ میں خوف ناک منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زخروفا نے ہفتے کے روز ایک ٹیلی ویژن ٹاک شو میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''شام میں حکومت کی تبدیلی سے ایک خلا پیدا ہوگا اور اس کو بہت جلد نام نہاد اعتدال پسند پُر کر لیں گے اور وہ اعتدال پسند نہیں بلکہ ہر قسم کے دہشت گرد ہیں۔ اس صورت میں ان سے کوئی معاملہ کاری نہیں کی جاسکے گی''۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ ''اس کے بعد شام میں بھی عراق جیسی صورت حال پیدا ہوسکتی ہے۔ہم یہ جانتے ہیں کہ صدام حسین کی عراقی فوج ہی داعش کی بنیاد بنی تھی۔امریکا کی قیادت میں اتحاد اور روس اس وقت جن کے خلاف لڑرہے ہیں ،وہ سب اسی سے پھلا پھولا تھا''۔
شام میں روس اور امریکا جنگ کے متحارب فریقوں کی حمایت کررہے ہیں۔روس شامی صدر بشارالاسد کا حامی ومؤید ہے جبکہ امریکا کی قیادت میں اتحاد اعتدال پسند باغی گروپوں کی حمایت کررہا ہے اور وہ اسد حکومت کا خاتمہ چاہتا ہے۔اب گذشتہ ماہ شام میں جنگ بندی کے خاتمے کے بعد روس اور امریکا میں سفارتی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے اور دونوں ممالک ایک دوسرے کو جنگ بندی کے ٹوٹنے کا مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں۔
درایں اثناء روس کے لڑاکا طیاروں نے حلب کے شمال میں باغیوں کے زیر قبضہ علاقے پر فضائی بمباری کی ہے جبکہ شامی فوج نے محاصرہ زدہ ایک محصور علاقے پر گولہ باری کی ہے۔
روسی طیاروں نے باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں کے لیے اہم سپلائی روٹ کے طور پر استعمال ہونے والے کاستیلو روڈ اور ملاح کے علاقے پر بمباری کی ہے جبکہ حلب کے قدیم حصے میں واقع شمالی علاقے سلیمان الحلبی میں باغیوں اور شامی فوج کے درمیان لڑائی کی اطلاعات ملی ہیں۔
روس نے جمعے کو شام میں باغی گروپوں کے خلاف فضائی مہم میں تیزی لانے کے لیے مزید لڑاکا طیارے بھیجنے کا اعلان کیا تھا جبکہ امریکا کا کہنا تھا کہ اس نے تنازعے کے سفارتی حل کے لیے کوششیں ترک نہیں کی ہیں۔
شامی فوج نے حلب میں دس روز قبل باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں پر دوبارہ کنٹرول کے لیے ایک بڑی اور اب تک کی فیصلہ کن کارروائی شروع کی تھی۔شامی فوج کو ایک جانب روس کی فضائی مدد حاصل ہے اور دوسری جانب ایران کی تربیت شیعہ ملیشیاؤں اور لبنان کی حزب اللہ کے جنگجوؤں کی حمایت حاصل ہے۔
امریکی وزیر خارجہ جان کیری اور ان کے روسی ہم منصب سرگئی لاروف نے جمعے کو مسلسل تیسرے روز ٹیلی فون پر گفتگو میں شام کی صورت حال ہر تبادلہ خیال کیا تھا۔روسی وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ ماسکو حلب میں صورت حال کو معمول پر لانے کے لیے مزید تجاویز پر غور کرنے کو تیار ہے۔
لیکن لاروف کا کہنا تھا کہ امریکا اعتدال پسند باغی گروپوں کو روس کی جانب سے دہشت گرد قرار دیے گئے گروپوں سے الگ کرنے میں ناکام رہا ہے۔ان کا مؤقف ہے کہ اسی وجہ سے القاعدہ سے ماضی میں وابستہ رہنے والے النصرۃ محاذ ایسے گروپوں کو فائدہ اٹھانے کا موقع ملا اور انھوں نے 9 ستمبر کو امریکا اور روس کے درمیان طے پانے والی جنگ بندی کو ناکام بنا دیا تھا۔