بھارت کا روس سے میزائل دفاعی نظام کی خریداری کے لیے معاہدہ

روس بھارت میں فوج کے لیے 200 ہیلی کاپٹر تیار کرے گا: سمجھوتے پر دست خط

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

بھارت نے روس سے زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں کی خریداری سے متعلق سمجھوتے اور اس کے ساتھ مل کر ہیلی کاپٹروں کی تیاری کے ایک منصوبے کا اعلان کیا ہے۔

دونوں ملکوں کے درمیان میزائلوں کی خریداری اور ہیلی کاپٹروں کی مشترکہ تیاری سے متعلق سمجھوتوں پر بھارت کی مغربی ریاست گوا میں ہفتے کے روز دستخط کیے گئے ہیں۔یہ سمجھوتے روسی صدر ولادی میر پوتین اور وزیراعظم نریندر مودی کے درمیان بات چیت کے بعد طے پائے ہیں۔گوا میں بریکس ممالک کا سربراہ اجلاس ہورہا ہے۔

بھارت کے فوجی حکام کا کہنا ہے کہ روس کے ساتھ مل کر دو سو کاموف ہیلی کاپٹرز تیار کیے جائیں گے۔یہ ہیلی کاپٹرز بھارت کی مسلح افواج کو مہیا کیے جائیں گے۔یہ اقدام وزیراعظم نریندر مودی کے بھارت میں دفاعی صنعت کے قیام اور اس کی ترقی کے منصوبے کا حصہ ہے۔

بھارت کے عسکری حکام کے مطابق روس سے پانچ ایس-400 میزائل دفاعی نظام خرید کیے جائیں گے اور اس سے ملک کی پاکستان اور چین کے ساتھ سرحدوں پر دفاع کو مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔واضح رہے کہ بھارتی حکومت نے کچھ عرصہ قبل روس سے پانچ ایس 400 فضائی دفاعی نظام کی خریداری کی منظوری دے تھی۔

وزیراعظم نریندر مودی کے گذشتہ دورۂ روس کے موقع پر بھارت کی دفاعی سازوسامان تیار کرنے والی فرم ریلائنس ڈیفنس نے روس کے فضائی دفاعی نظام تیار کرنے والے ادارے الماز آنتے کے ساتھ چھے ارب ڈالرز مالیت کا ایک معاہدہ کیا تھا۔

ریلائنس ڈیفنس کے مطابق ''طرفین نے فضائی دفاعی میزائل نظام ،راڈار اور خودکار کنٹرول نظام کی شراکت داری کے شعبوں کے طور پر نشان دہی کی تھی۔اس کے علاوہ روسی کمپنیاں بھارت کی وزارت دفاع کی آف سیٹ پالیسی میں بھی تعاون کریں گی''۔

اس آف سیٹ پالیسی کے تحت دفاعی شعبے میں عالمی ٹھیکے دار کسی بھارتی فرم کے ساتھ معاہدے کی صورت میں اس کی کل لاگت کی ایک خاص شرح بھارت میں دفاعی صنعت پر لگانے کے پابند ہیں تا کہ اس کا دوسرے ممالک پر دفاعی شعبے میں انحصار بتدریج کم کیا جا سکے۔واضح رہے کہ بھارت اس وقت دنیا بھر میں اسلحے کا سب سے بڑا خریدار ملک ہے۔

بھارت اپنی فوج کی دفاعی صلاحیت کو آیندہ ایک عشرے کے دوران اپ گریڈ کرنے کے لیے ڈھائی سو ارب ڈالرز صرف کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اور مودی سرکار اس ضمن میں بھارتی حکومت اور دفاعی فرموں کے لیے زیادہ کردار چاہتی ہے۔

ریلائنس ڈیفنس روس کے ساتھ دفاعی شعبے میں کاروبار کو فروغ دینے کے لیے کوشاں ہے۔اس کا کہنا ہے کہ اس نے الماز آنتے کے سسٹمز کو جدید بنانے اور اس کی مرمت کے ایک مشترکہ منصوبے پر عمل درآمد کے لیے بھی تبادلہ خیال کیا ہے۔

یہ کمپنی ہیلی کاپٹروں ،آبدوزوں اور جہازوں کے مقامی تیار کنندگان کے لیے ٹھیکے حاصل کرنے کا بھی ارادہ رکھتی ہے۔انیل امبانی کی ملکیتی ریلائنس انفرااسٹرکچر نے پپاواو ڈیفنس اور آف شور انجنیئرنگ کمپنی کا کنٹرول سنبھال لیا تھا۔یہ کمپنی بھارتی بحریہ کے لیے پیٹرول کشتیاں تیار کرتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں