.

امریکا: ایران کے خلاف 10 سالہ پابندیوں کے لیے رائے شماری قریب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی کانگریس میں معاون ذرائع نے ایک غیرملکی خبر رساں ایجنسی کو بتایا ہے کہ ایوان نمائندگان میں ریپبلکن رہ نما جلد ہی ایک رائے شماری کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں جو ممکنہ طور پر نومبر میں ہوگی اور اس کا مقصد ایران پر پابندیوں کے قانون پر عمل درامد میں دس سال کی تجدید کرنا ہے۔ یہ اقدام وہائٹ ہاؤس اور سینیٹ کے ساتھ تصادم کا سبب بن سکتا ہے۔

مذکورہ قانون کی مدت 31 دسمبر کو ختم ہو رہی ہے۔ یہ قانون ایران کے نیوکلیئر پروگرام اور بیلسٹک میزائل کے تجربات کی وجہ سے تجارت ، توانائی ، دفاع اور بینکنگ سیکٹر میں ایران پر پابندیوں کی اجازت دیتا ہے۔

معاون ذرائع نے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ ایوان نمائندگان میں خارجہ امور کی کمیٹی کے سربراہ ریپبلکن رہ نما اِڈ روئس کانگریس میں پابندیوں کی دس سالہ تجدید کی تجویز پیش کریں گے۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ غالب گمان یہ ہی ہے کہ ایوان واضح اکثریت سے اس کو منظور کر لے گا جس کا مطلب یہ ہوا کہ تجدید کا عمل موجودہ قانون میں کسی بھی تبدیلی کے بغیر ہوجائے گا۔

ایوان نمائندگان اور سینیٹ میں ریپبلکن پارٹی کو اکثریت حاصل ہے۔ کانگریس کے تمام ریپبلکن ارکان نے جولائی 2015 میں ایران کے ساتھ طے پائے جانے والے عالمی نیوکلیئر معاہدے کی مخالفت کی تھی۔ اس معاہدے کے تحت ایران خود پر عائد پابندیوں میں نرمی کے بدلے اپنے نیوکلیئر پروگرام پر روک لگانے کے لیے آمادہ ہو گیا تھا۔

سینیٹ میں بعض ریپبلکن ارکان اس بات کی کوشش کر رہے ہیں کہ پابندیوں کی تجدید کے قانون کی حمایت حاصل کرنے کے علاوہ بیلسٹک میزائل کے تجربات کو بنیاد بنا کر ایرانی شخصیات اور کمپنیوں کو سزا دی جائے۔

ایران پر پابندیوں کا قانون پہلی مرتبہ 1996 میں جاری ہوا تھا جس کا مقصد ایرانی توانائی کے سیکٹر میں سرمایہ کاری کو نشانہ بنانا اور نیوکلیئر ہتھیار تیار کرنے کی ایرانی کوششوں پر روک لگانا تھا۔

ادھر وہائٹ ہاؤس بار ہا خبردار کر چکا ہے کہ وہ نیوکلیئر معاہدے سے متصادم کسی بھی نئی پابندیوں کی مخالفت کرے گا۔ تاہم کانگریس میں تمام ریپبلکن اور بہت سے ڈیموکریٹک ارکان نیوکلیئر معاہدے کے مخالف ہیں اور وہ پابندیوں کے قانون کا اختتام نہیں چاہتے ہیں۔ ان ارکان کا کہنا ہے کہ ترمیم کے بغیر قانون کی تجدید سے نیوکلیئر معاہدے کی خلاف ورزی نہیں ہوگی۔

اوباما انتظامیہ نے کانگریس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ قانون کی تجدید کو روکے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس کے پاس اتنے اختیارات ہیں کہ اگر ایران نے نیوکلیئر معاہدے کی خلاف ورزی کی تو وہ دوبارہ سے اقتصادی پابندیاں عائد کر دے۔