اخوان رہ نما کے ایران نواز عراقی ٹی وی کوانٹرویو پر نیا تنازع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

عراق میں اہل تشیع کے ترجمان اور ایرانی پاسداران انقلاب کے مقرب سمجھے جانے ولے ایک سیٹلائٹ ٹیلی ویژن چینل کی جانب سے مصری اخوان المسلمون کے رہ نما کمال الھلباوی کا طویل انٹرویو نشر کیا ہے جس پر مصر کے عوامی، سیاسی اور ابلاغی حلقوں میں سخت غم وغصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق کمال الھلباوی کو معلوم تھا کہ ’’الغدیر‘‘ نامی جو ٹی وی چینل انٹرویو لے رہا ہے وہ ایرانی پاسداران انقلاب کا ترجمان اور اہل تشیع کی ملکیت ہے۔ مگر اس کے باوجود وہ بلا تامل ٹی وی چینل سے کھل کر بات کرتے رہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایران نواز عراقی ٹیلی ویژن چینل کو انٹرویو دینے پر مصری عوام میں الھلباوی کے خلاف سخت غم وغصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔

ادھر عراق کی سڑکوں پر کمال الھلباوی کے انٹرویو کی شارٹ اسکرین سے لی گئی تصویر جگہ جگہ آویزاں کی گئی ہے اور ان کے پورٹریٹ کو مبالغہ آرائی کی حد تک اہمیت دی ئی ہے۔ ساتھ ہی کہا گیا ہے کہ ان سے لیا گیا انٹرویو متعدد اقساط میں نشر کیا گیا ہے۔

مصر میں اہل تشیع پرتحقیق کرنے والے تجزیہ نگار ناصر رضوان نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتےہوئے کہا کہ ’’الغدیر‘‘ سیٹلائٹ چینل عراق کی الحشد الشعبی شیعہ ملیشیا کی ملکیت اور ایرانی پاسداران انقلاب کے بہت قریب ہے۔ اس کے مدارالمہام میں ھادی العامری نامی شخص ہیں جو الحشد الشعبی کے سرکردہ لیڈر ہیں۔ شیعہ ملیشیا کے ٹی وی چینل پر کسی اخوان رہ نما کا نمودار ہونا باعث تشویش اور قابل مذمت ہے۔ مصری عوام نے ان کے انٹرویو کو پسند نہیں کیا ہے۔

ناصر رضوان نے کہا کہ اخوان رہ نما نے ایک ایسے وقت میں الغدیر ٹی وی کو انٹریو دیا ہے جب عراق میں اہل سنت مسلک کے پیروکاروں کا وحشیانہ قتل عام کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کمال الھلباوی سے اس انٹرویو کے بارے میں تفتیش کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔

کمال الھلباوی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے خود بھی بات کی اور اعتراف کیا کہ انہوں نے لندن میں عراقی ٹی وی چینل کے لیے انٹرویو ریکارڈ کرایا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ ان سے انٹرویو لینے والے ایرانی نہیں بلکہ عراقی تھی۔ ان سے جاندار سوال پوچھے گئے اور انہوں نے تمام سوالوں کے مفصل واضح جواب دیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجھ سے پوچھے گئے سوالات میں خطے کی صورتحال سے متعلق سوالات بھی شامل تھے اور عرب ممالک سے متعلق سوالات بھی تھے۔

ماضی میں اخوان المسلمون کے ترجمان رہنے والے کمال الھلباوی سے جب بغداد کی شاہراؤں پر لگی ان کی تصاویر کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ان تصاویر میں ان کا کوئی کردار نہیں ہے۔ یہ ٹی وی چینل کی انتظامیہ کا اپنا کام ہے اور وہ اپنی پالیسی پرعمل درآمد میں کسی دوسرے کی رائے کی پابند نہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں