.

اس مرتبہ وائٹ ہاؤس میں کون داخل ہوگا، ہاتھی یا گدھا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی سیاست کے میدان میں ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز کے درمیان مقابلے کی گھڑی آن پہنچی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ منگل کے روز ہونے والے اس معرکے میں جیت کس کا مقدر بنتی ہے؟ ڈیموکریٹک ہیلری کلنٹن کا یا پھر ریپبلکن ڈونلڈ ٹرمپ؟

سروے رپورٹوں کے ابتدائی اشاریوں کے مطابق باراک اوباما کی دو مرتبہ مدت صدارت پوری ہونے کے بعد بھی ڈیموکریٹس کی حکومت کا سلسلہ جاری رہے گا۔

امریکا کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو صدور کی تعداد کے لحاظ سے سیاسی پلڑا ریپبلکن کے حق میں جھکا ہوا نظر آتا ہے۔ اگرچہ ریپبلکن پارٹی (جس کا غیر سرکاری نشان ہاتھی ہے) ڈیموکریٹک پارٹی (جس کا غیر سرکاری نشان گدھا ہے) کے بعد معرض وجود میں آئی۔

اب تک امریکا کی صدارت 18 ریپبلکن سنبھال چکے ہیں۔ ان میں سب سے پہلا نام ابراہم لنکن (1861 – 1865) کا ہے جن کی صدارت کا اختتام ان کے قتل پر ہوا۔ اس فہرست میں سب سے آخری نام جارج ڈبلیو بش جونیئر (2001 – 2009) کا ہے جنہوں نے اپنی صدارت کی دو میعادیں مکمل کیں۔

ڈیموکریٹک کیمپ کو دیکھا جائے تو وہاں سے اب تک 15 شخصیات امریکا کی صدارت سنبھال چکے ہیں۔ ان میں سے پہلا نام اینڈرو جیکسن (1829-1837) کا ہے جب کہ آخری نام باراک اوباما کا ہے۔

ریپبلکنز.. انفرادی رجحان اور آہنی پالیسی

ریپبلکن پارٹی کی تاسیس 1854 میں لنکولن کے ہاتھوں عمل میں آئی جنہوں نے امریکی خانہ جنگی میں نمایاں کردار ادا کیا تھا۔ انہوں نے اس غلامانہ نظام کو مسترد کر دیا جس پر جنوبی ریاستوں کی معیشت کی عمارت قائم کی گئی تھی۔

ریپبلکن پارٹی برابری اور مساوی مواقع پر زور دیتی ہے اور سماجی طور پر قدامت پسند اقدار کو اپنا رکھا ہے۔

ڈیموکریٹک پارٹی کے برخلاف ریپبلکن پارٹی ٹیکسوں میں اضافے کو مسترد کرتی ہے اور مختلف درجوں میں حکومتی اخراجات کو کم کرنے پر زور دیتی ہے۔

اس کے علاوہ ریپبلکنز آزاد منڈیوں کے کردار اور انفرادی کامیابی کو باور کراتے ہیں جو کہ اس کے نزدیک اقتصادی ترقی کے لیے بنیادی عوامل ہیں۔ اسی لیے پارٹی کی پالیسی معیشت میں عدم مداخلت پر کار فرما ہے اور پارٹی سماجی دیکھ بھال کے پروگراموں میں ذاتی ذمے داری کو مضبوط کرنے پر کام کرتی ہے۔

امریکا کی تاریخ کے نمایاں ترین ریپبلکن صدور یہ ہیں : تھیوڈور روزویلٹ (1901-1909) جنہوں نے پہلی عالمی جنگ کا سامنا کیا، رچرڈ نکسن (1969 - 1974) جو واٹر گیٹ اسکینڈل کے سبب مستعفی ہوئے، رونالڈ ریگن (1981 - 1989) جو ملکی تاریخ کے طاقت ور ترین صدر تھے، جارج بش سینئر (1989 -1993) جنہوں نے 1990 میں کویت پر حملہ آور عراقی صدر صدام حسین کے خلاف پہلی خلیجی جنگ لڑی اور جارج ڈبلیو بش جونیئر (2001 – 2009) جنہیں 11 ستمبر کے حملوں کے بعد ملکی تاریخ کے سب سے بڑے چیلنج ک سامنا کرنا پڑا اور انہوں نے افغانستان اور عراق کے خلاف جنگ کی۔

ڈیموکریٹس.. آسودگی جن کا وعدہ

ڈیموکریٹک پارٹی کی بنیاد 1792 میں "ریپبلکن – ڈیموکریٹک پارٹی" کے نام سے تھامس جیفرسن اور جیمس میڈیسن کے ہاتھوں رکھی گئی۔ بعد ازاں یہ اینڈرو جیکسن کی قیادت میں اپنے موجودہ نام سے تشکیل پائی۔

اس کے بعد ڈیموکریٹک پارٹی قدامت پرست فکر سے جانی گئی۔ 1862 میں امریکی خانہ جنگی کے دوران اس کو جنوب میں بڑے پیمانے پر مقبولیت حاصل تھی۔ تاہم بعد ازاں 1932 میں صدر فرنکلین روزویلٹ کی قیادت میں پارٹی میں بنیادی نوعیت کی تبدیلی آئی اور وہ لبرل گروپوں ، مزدور انجمنوں اور معیشت میں حکومتی مداخلت کی نمائندہ بن گئی.. اور آج تک پارٹی کو امریکا میں ترقی پسند نظریات کے ساتھ مربوط کیا جاتا ہے۔

ڈیموکریٹک پارٹی کو متعدد بحرانات کا بھی سامنا کرنا پڑا بالخصوص 1960 کے عشرے میں جب شہری حقوق کی تحریک متعارف کرائی گئی۔ اسی طرح ویتنام کی جنگ کے نتیجے میں امریکا کے اندرون اور بیرون مرتب ہونے والی مشکلات بھی اہم ہیں۔

ڈیموکریٹس کی حکومتوں کے ادوار کو امریکا میں سماجی آسودگی اور بہبود ، اقتصادی ترقی اور بہت کم جنگوں کا زمانہ شمار کیا جاتا ہے۔ جیسا کہ بل کلنٹن کا دور اقتصادی ترقی کے ساتھ مختص ہے جب بجٹ کے اندر تجارتی فاضل آمدنی کا حجم 559 ارب ڈالر ہو گیا تھا۔

امریکا کی تاریخ میں اہم ترین ڈیموکریٹک صدور کے نام یہ ہیں : اینڈرو جیکسن (1829-1838) جو پارٹی کے بانی تھے ، گروفر کلف لینڈ (1885-1889 اور 1893-1897) جو 1860-1912 کے درمیان صدر بننے والی اکلوتی ڈیموکریٹک شخصیت ہیں، فرینکلن روزویلٹ (1933-1945) جو امریکی صدارت کے لیے نامزد ہونے والی واحد شخصیت ہیں، ہیری ٹرومین (1945-1953) جو روزویلٹ کی موت کے بعد ان کے جانشیں بنے اور دوسری عالمی جنگ کی مشکلات کا سامنا کیا۔ جاپان میں ہیروشیما پر ایٹم بم گرانے کا فیصلہ بھی ٹرمین کا تھا۔

نمایاں ڈیموکریٹک صدور میں مزید نام یہ ہیں : جان ایف کینیڈی (1961-1963) جنہوں نے ڈیوڈ آئزن ہاور کے بعد حکومت سنبھالی۔ تاہم امریکا کی تاریخ کے کم سن ترین منتخب صدر کی حکمرانی ایک ہزار دنوں سے زیادہ جاری نہ رہ سکی۔ ان کے دور میں 1962 میں کیوبا میں روسی میزائلوں کی تنصیب کا بحران سامنے آیا۔ کینیڈی کی زندگی کا خاتمہ پراسرار نوعیت کے قاتلانہ حملے میں ہوا۔ لنڈن جانسن (1963–1969) جنہوں نے افریقی نژاد امریکیوں کے لیے شہری حقوق کے قانون پر دستخط کیے۔

اس قانون کے بل کا مسودہ صدر کینیڈی کے دور میں تیار ہوا تھا۔ جمی کارٹی (1977-1981) جن کی نمایاں ترین کامیابی مصر اور اسرائیل کے درمیان کیمپ ڈیوڈ معاہدے پر دستخط کرانا ہے۔ بل کلنٹن (1993-2001) جن کی دو مرتبہ مدت صدارت بلند تجارتی آمدن کی امتیازی خصوصیت سے آراستہ رہی۔ اس کے علاوہ اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان اوسلو معاہدہ بھی ان ہی کے دور میں طے پایا۔ اس فہرست میں آخری نام باراک اوباما (2009 - 2016) کا ہے۔ امریکا کی تاریخ کے 44 ویں صدر وائٹ ہاؤس تک پہنچنے والے پہلے افریقی نژاد صدر ہیں۔