ڈونلڈ ٹرمپ کی صدر اوباما سے اوول آفس میں پہلی ''شاندار'' ملاقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

امریکا کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صدر براک اوباما سے ملاقات کی ہے اور ان سے اقتدار کی منتقلی کے عمل پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ مؤخرالذکر نے نوّے منٹ کی اس ملاقات کو شاندار قرار دیا ہے اور اول الذکر کا کہنا ہے کہ وہ سبکدوش ہونے والے صدر کی مشاورت کے منتظر ہیں۔

صدر اوباما نے ڈونلڈ ٹرمپ سے مخاطب ہوکر کہا:''اب ہم آپ کو کامیاب کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش اور مدد کرنے کو تیار ہیں کیونکہ اگر آپ کامیاب ہوتے ہیں تو ملک کامیاب ہوگا''۔

واضح رہے کہ دونوں لیڈر ماضی میں ایک دوسرے پر تابر توڑ حملے کرتے رہے ہیں اور حالیہ صدارتی انتخاب کے لیے مہم کے دوران صدر اوباما نے ڈونلڈ ٹرمپ کو ان کے تند وتیز بیانات پر آڑے ہاتھوں لیا تھا،ان کا راستہ روکنے کے لیے ہلیری کلنٹن کے حق میں مہم چلائی تھی اور انھیں امریکا کے کمانڈر ان چیف کے طور پر نا اہل قرار دیا تھا۔ دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ براک اوباما کی صدارت اور امریکی شہریت کے بارے میں گذشتہ برسوں میں سوال اٹھاتے رہے ہیں۔وہ غلط طور پر یہ بھِی کہتے رہے ہیں کہ اوباما شاید امریکا سے باہر کہیں پیدا ہوئے تھے۔

اوول آفس میں ملاقات کے بعد جب دونوں شخصیات صحافیوں کے سامنے نمودار ہوئیں تو انھوں نے ماضی کی مخاصمت کو بھلانے کی کوشش کی ہے اور براک اوباما نے اپنے جانشین صدر کی جانب دیکھ کر مسکرانے کی کوشش کی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ اپنی انتخابی مہم کے دوران صدر اوباما کے آٹھ سالہ دور صدارت کے اقدامات پر خط تنسیخ پھیرنے کے وعدے کرتے رہے ہیں۔ اب انھیں کسی بھی قسم کی قانون سازی کے لیے ری پبلکن پارٹی کی بالادستی والی کانگریس کی حمایت حاصل ہوگی اور وہ اپنے وعدوں کو عملی جامہ پہنا سکتے ہیں۔انھوں نے صدر اوباما کے منظور کردہ صحت عامہ کے قانون اور ایران کے ساتھ طے شدہ جوہری معاہدے کو منسوخ کرنے کے وعدے کیے تھے۔

انھوں نے امریکا اور میکسیکو کے درمیان سرحد پر غیر قانونی تارکین وطن کے داخلے کو روکنے کے لیے دیوار تعمیر کرنے کا بھی اعلان کیا تھا اور دہشت گردی سے تعلق رکھنے والے ممالک سے تارکین وطن کی امریکا میں آمد پر عارضی پابندی لگانے کا بھی وعدہ کیا تھا۔ اگر وہ ان وعدوں کو علی جامہ پہناتے ہیں تو امریکا کی داخلہ اور خارجہ پالیسیوں میں بڑی بنیادی تبدیلیاں رونما ہوں گی۔

خاتون اول میشل اوباما نے وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ کی اہلیہ ملانیا سے ملاقات کی ہے جبکہ نائب صدر جو بائیڈن نومنتخب نائب صدر مائیک پینس سے ملاقات کرنے والے تھے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نیویارک سے اپنے ذاتی جیٹ پر واشنگٹن آئے تھے۔وہ امریکی صدور کی روایت کو توڑتے ہوئے اپنے ساتھ صحافیوں کو سوار کرکے نہیں لائے ہیں۔وہ اپنی انتخابی مہم کے دوران میڈیا کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں اور جن اخباری اداروں کی کوریج سے وہ ناخوش تھے،ان پر انھوں نے پابندی بھی عاید کردی تھی۔

نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اب صدر براک اوباما کی طرح ہی روزانہ انٹیلی جنس بریفنگ دی جائے گی۔انھیں امریکا کی بیرون ملک خفیہ کارروائیوں ،عالمی لیڈروں اور امریکی مفاد سے متعلق دوسرے امور کے بارے میں سترہ سراغرساں اداروں کی فراہم کردہ خفیہ معلومات پر مبنی بریفنگ دی جایا کرے گی۔وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے مشیروں کو بھی روزمرہ داخلی امور اور قومی سلامتی کے بارے میں بریفنگ کا بھی اہتمام کیا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں