.

جاسٹا کے باوجود امریکا میں سعودی سرمایہ کاری کو استثنا حاصل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا میں حال ہی میں کانگریس کے منظور کردہ انصاف برخلاف اسپانسرز دہشت گردی ایکٹ ( جاسٹا) کے باوجود سعودی سرمایہ کاری کو خود مختارانہ استثنا حاصل ہوگا اور امریکا میں کی جانے والی سعودی سرمایہ کاری پر کچھ فرق نہیں پڑے گا۔

سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق مرکزی بنک ( سعودی مالیاتی ایجنسی ،ساما) کے گورنر نے کہا ہے کہ امریکا میں سعودی سرمایہ کاری پر اس قانون کی وجہ سے کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔اس کے علاوہ بنک کا سعودی کرنسی ریال کو ڈالر سے لاتعلق کرنے یا کرنسی کے تبادلے کی شرح میں تبدیلی کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

ساما کے گورنر ڈاکٹر احمد بن عبدالکریم الخلیفی نے مرکزی بنک کی سالانہ رپورٹ کے اجراء کے موقع پر کہا ہے کہ سال 2015ء کے دوران میں قومی معیشت میں مثبت انداز میں بڑھوتری جاری رہی ہے اور مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے اعدادوشمار اس اضافے کے مظہر ہیں۔

گذشتہ مالی سال کے دوران سعودی عرب کی جی ڈی پی کی شرح 3.5 فی صد رہی ہے۔گورنر کا کہنا تھا کہ تیل مارکیٹ میں کساد بازاری ،عالمی معیشت میں ہونے والی پیش رفتوں اور خطے کے ماحول کی وجہ سے اقتصادی شرح نمو متاثر ہوئی تھی۔

جاسٹا

سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے ستمبر کے آخر میں اپنے ردعمل میں کہا تھا کہ امریکی کانگریس میں منظور کردہ نائن الیون قانون (جاسٹا) سے ملکوں کو حاصل خود مختاری کا استثنا متاثر ہوگا اور اس سے امریکا سمیت تمام ممالک متاثر ہوں گے۔

جاسٹا کے تحت نائن الیون کے طیارہ حملوں میں ہلاک شدگان قریباً تین ہزار افراد کے لواحقین اور زخمی افراد کے خاندان سعودی عرب کی حکومت کے خلاف مالی ہرجانے کے حصول کے لیے قانونی چارہ جوئی کرسکیں گے اور اس کا جواز محض یہ ہے کہ نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سنٹر اور پینٹاگان پر طیاروں سے حملے کرنے والے القاعدہ کے انیس ہائی جیکروں میں سے پندرہ کا تعلق سعودی عرب سے تھا۔

امریکاکے قانونی نظام کے تحت اس وقت ملکوں کو خود مختارانہ استثنا حاصل ہے۔اس قانونی اصول کے تحت ان ملکوں اور ان کے سفارت کاروں کے خلاف امریکا کے قانونی نظام کے تحت قانونی چارہ جوئی نہیں کی جاسکتی ہے لیکن امریکی کانگریس میں جاسٹا کی منظوری کے بعد اب یہ استثنا ختم ہو کر رہ جائے گا۔