.

ایران پر پابندیوں میں توسیع ،امریکا پر بھروسا نہیں کیا جا سکتا: جواد ظریف

ایرانی پارلیمان کے ارکان کا منجمد جوہری سرگرمیوں کی فوری بحالی کے لیے مجوزہ قانون پر غور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے کہا ہے کہ امریکی کانگریس میں ایران پر پابندیوں کے ایکٹ ( آئی ایس اے) میں مزید دس سال کے لیے توسیع کی منظوری سے دنیا پر ظاہر ہوگیا ہے کہ امریکا کے وعدوں پر بھروسا نہیں کیا جا سکتا ہے۔

ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق وزیر خارجہ جواد ظریف نے ہفتے کے روز بھارت کے دورے پر نئی دہلی میں آمد پر کہا ہے کہ ''ایران پر پابندیوں میں توسیع کا فیصلہ امریکی حکومت کی ناقابل اعتباریت کا مظہر ہے۔عالمی برادری کو بھی یہ بات جان لینی چاہیے کہ امریکا اپنے وعدوں کے خلاف عمل کررہا ہے''۔

درایں اثناء ایران کی ایک خبررساں ایجنسی فارس نے انکشاف کیا ہے کہ پارلیمان کے ارکان ایک بل کا مسودہ تیار کرکے جلد ایوان میں پیش کرنا چاہتے ہیں جس کے تحت امریکا کی جانب سے ایران پر عاید پابندیوں میں توسیع کے ردعمل میں تمام منجمد جوہری سرگرمیاں بحال کردی جائیں گی۔

فارس کی اطلاع کے مطابق پارلیمان کے ارکان امریکی سینیٹ کے فیصلے کا فوری طور پر کوئی سنجیدہ جواب دینے کے خواہاں ہیں۔ امریکی سینیٹ نے جمعرات کو ایران پر 1979ء سے عاید پابندیوں کو مزید دس سال کے لیے توسیع دینے کی منظوری دی تھی۔

قبل ازیں امریکی ایوان نمائندگان نے 15 نومبر کو کثرت رائے سے ایران کے خلاف عاید ان پابندیوں کی مزید دس سال کے لیے تجدید کی منظوری دی تھی۔امریکا کے اس فیصلے کے بعد سے ایرانی لیڈر جوابی ردعمل کی دھمکی دے رہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ امریکا کا فیصلہ گذشتہ سال طے شدہ جوہری معاہدے کی صریح خلاف ورزی ہے۔اس کے تحت ایران کے جوہری سرگرمیوں کو منجمد کرنے کے ردعمل میں اس پر عاید بیشتر عالمی پابندیاں ختم کردی گئی تھیں۔

واضح رہے کہ امریکا نے دہشت گردی کی حمایت ،بیلسٹک میزائلوں کی تیاری اور ان کے تجربات کو جواز بنا کر ایران پر یہ پابندیاں عاید کی تھیں۔ کانگریس میں بالادستی کے حامل ری پبلکنز ارکان کا کہنا ہے کہ نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف سخت ردعمل جاری رکھیں گے اور وہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے میں بھی ترمیم کرسکتے ہیں تاکہ اس کو خطے کے دوسرے ممالک میں مداخلت کی پالیسی سے باز رکھا جاسکے۔

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے اگلے روز ہی ایک بیان میں کہا ہے کہ ''پابندیوں کے خاتمے کے لیے مذاکرات کے باوجود امریکی کانگریس نے ان میں توسیع کا راستہ اختیار کیا ہے اور یہ کوئی نئی پابندیاں نہیں ہیں بلکہ سابقہ پابندیوں ہی کی تجدید کی گئی ہے''۔

انھوں نے مزید کہا کہ '' کسی نئی پابندی کے نفاذ یا ختم ہو جانے والی پابندیوں کی بحالی میں کوئی فرق نہیں ہے۔موخر الذکر پابندیاں امریکیوں کے ساتھ ماضی میں جو کچھ طے پایا تھا،اس کا واضح انکار ہیں''۔

ایرانی پارلیمان کے ارکان جوہری پروگرام کی منجمد سرگرمیوں کی جلد بحالی چاہتے ہیں۔
ایرانی پارلیمان کے ارکان جوہری پروگرام کی منجمد سرگرمیوں کی جلد بحالی چاہتے ہیں۔