.

مراکش : داعش سے تعلق کے الزام میں 8 مشتبہ افراد گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مراکش میں پولیس نے دولتِ اسلامیہ عراق وشام ( داعش) سے تعلق کے الزام میں آٹھ مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔مراکشی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ یہ مشتبہ افراد فیض اور طنجہ شہر میں فعال تھے۔

وزارت داخلہ نے ایک بیان میں اطلاع دی ہے کہ ان افراد کو جمعرات کو ایک چھاپا مار کارروائی کے دوران گرفتار کیا گیا ہے اور ان کے قبضے سے ایک بندوق اور جہاد پر اُبھارنے والی دستاویز برآمد ہوئی ہیں۔

ابتدائی تفیش کے مطابق گرفتار افراد کے عراق اور شام میں داعش کے جنگجوؤں سے روابط استوار تھے اور وہ مراکشی رضاکاروں کو لڑائی کے لیے وہاں بھیج رہے تھے۔

یادرہے کہ مراکش کے وسطی شہر مراکش میں سنہ 2011ء میں ایک کیفے میں تباہ کن بم دھماکے میں سترہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ان میں زیادہ تر غیرملکی تھے۔ کیسا بلانکا میں سنہ 2003ء میں بم دھماکے کے بعد یہ سب سے تباہ کن حملہ تھا۔ کیسا بلانکا میں بم حملے میں پینتالیس افراد ہلاک ہوئے تھے اور اسلامی جنگجوؤں نے اس حملے کی ذمے داری قبول کی تھی۔

مراکش کا کہنا ہے کہ اس نے سنہ 2002ء کے بعد ڈیڑھ سو سے زیادہ دہشت گردی کے سیلوں کو بے نقاب کیا ہے۔ان میں دسیوں کو گذشتہ تین سال کے دوران عراق اور شام میں جنگجوؤں سے تعلق کے الزام میں پکڑا گیا ہے۔

امریکا میں قائم صوفان نامی ایک گروپ نے دسمبر 2015ء میں ایک مطالعاتی رپورٹ میں بتایا تھا کہ گذشتہ اٹھارہ مہینوں کے دوران مراکش سے کم سے کم بارہ سو افراد عراق اور شام میں داعش کی صفوں میں شامل ہوکر لڑنے کے لیے گئے تھے۔ مراکشی وزارت داخلہ کے مطابق گذشتہ دو سال کے دوران ایک ہزار تین سو پچاس مراکشی داعش میں شامل ہوئے تھے اور ان میں قریباً اڑھائی سو عراق اور شام میں لڑتے ہوئے مارے گئے تھے۔