.

اسرائیل کے لیے آبدوز کی تیاری، جرمن کمپنی کو ایران کا تعاون

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزیر دفاع آوی گیڈور لائبرمین نے کہا ہے کہ ان کے ملک کو اس بات کا پیش گی علم تھا کہ جرمنی کی جو کمپنی اسرائیل کے لیے آبدوزتیار کررہی ہے، اسے ایران کا تعاون بھی حاصل ہے۔

صہیونی وزیر دفاع نے پارلیمنٹ کی خارجہ و سیکیورتی کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آبدوزیں تیار کرنے والی جرمن کمپنی اور ایران کے درمیان باہمی تعاون کی بات کوئی انکشاف نہیں بلکہ سب جانتے ہیں کہ جرمن کمپنی کے ساتھ ایران کے شیئرز ہیں۔

حال ہی میں اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے یہ انکشاف کیا تھا کہ ایران نے جرمنی کی آبدوز ساز فرم میں شیئرز حاصل کر رکھے ہیں۔

قبل ازیں پارلیمنٹ کے اجلاس کے دوران ’فیوچر‘ پارٹی کے رکن اوویر شیلح نے جرمن کمپنی اور ایران کے درمیان باہمی تعاون کی خبروں کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ تاہم سرکاری سطح پر اس معاملے کی تحقیقات کا اعلان نہیں کیا گیا۔

لائبرمین کا کہنا ہے کہ ایران اور جرمن کمپنی کے درمیان باہمی تعاون ایک حقیقت ہونے کے باوجود تل ابیب برلن کے ساتھ آبدوزوں کی ڈیل سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے پاس اور کوئی متبادل نہیں ہے۔

خیال رہے کہ ایران اور اسرائیل ایک دوسرے کے دشمن ملک ہیں۔ اسرائیل ایران کو جوہری طاقت بننے سے روکنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہا ہے٫